تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 24
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۲۴ لْقَى - وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ إِنْ هَذَا إِلَّا بِتَائِيْدِ رُوْحِ الْقُدُسِ۔دوم اس لئے کہ الا ایک حرف ہے جس کے معنے واؤ عاطفہ بھی آتے ہیں۔دیکھو معانی اور نحو کی بڑی بڑی کتابیں اور ثبوت کے لئے دیکھو یہ آیت شریف:۔اِنّى لَا يَخَافُ لَدَى الْمُرْسَلُوْنَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوء ( النمل : ۱۲،۱۱) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے پاس میرے رسولوں اور انہیں خوف ہی نہیں جنہوں نے گناہ کرتے کرتے گناہوں کو چھوڑ دیا اور گناہوں کے جابجا نیکی کرنے لگے۔امام اخفش، امام فراء، امام ابو عبید ائمہ لغت و نحو نے کہا ہے یہاں الا واؤ کے معنے پر آیا ہے ایسے ہی آیت شریف لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ ، إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمُ (البقرة :(۱۵) تو کہ نہ رہے تم پر عام لوگوں اور خاص کر بدکاروں کی کوئی حجت اور دلیل۔پھر اس تحقیق پر منکرین کے پیش کردہ آیت یہ معنی ہوں گے:۔اور نہیں منع کیا ہم کو آیات کے بھیجنے سے کسی چیز نے اور منکروں کی تکذیب نے۔اور یہ عطف خاص کا ہوگا عام پر۔غور کرومنکروں کی تکذیب ہرگز ہرگز معجزات کے روکنے والے نہیں۔اگر ان کی تکذیب روکتی تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بڑے معجزات کا انکار کیا تھا پھر کیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا نہ کئے بلکہ منکر ہمیشہ انکار کرتے رہے اور معجزات بھی آتے رہے۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ وَهَذَا بِتَائِيدِ رُوحِ الْقُدُسِ۔- تیسرا اس لئے کہ ہم نے مان لیا یہاں الا کا لفظ زائد نہیں۔عاطفہ بھی نہیں۔استثنا کے واسطے ہے۔الآیات کا الف اور لام عہد اور خصوصیت کے معنے دے گا یا عموم اور استغراق کے۔پہلی صورت عہد اور خصوصیت کی اگر ہوگی تو آیت کے یہ معنے ہوں گئے اور نہیں منع کیا ۲۴