تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 14

ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۴ میں بھی متردد اور متشکک نہ رہیں۔گویا یہ الہی دعا ہے جو یقیناً قبول ہے یا جس حالت میں تیری جبات بھی ایسی تعلیم پر تر د والی نہیں تو اب تو میرے مطالب دلائل سے مدلل ہو چکے۔چھٹا جواب۔میں نے بفرض محال مان لیا تر در واقع ہوا تو کیا ایسا تر در حسب مسلمات عیسائیوں کے نبوت کے عہدہ سے معزول کر سکتا ہے ہرگز ہرگز نہیں۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام کی توریت کتاب خروج اور کتاب قاضی۔موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نجات کے لئے منتخب فرمایا۔تو حضرت موسیٰ فرماتے ہیں:۔میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں۔خروج ۳ باب ۱۱۔پھر موسیٰ علیہ السلام لگے عذر کرنے کہ میں اچھی طرح بول نہیں سکتا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بتاکید کہا کہ تو جا میں تیرے ساتھ ہوں۔پھر اپنی کمزوری پر ان سب باتوں پر بقول عیسائیوں کے اطمینان نہ ہوا تو عرض کیا کہ کسی اور کومصر میں بھیج۔تب باری تعالیٰ (موجودہ توریت کہتی ہے ) کا غصہ موسیٰ پر بھڑ کا دیکھو۔تب خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑ کا۔خروج ۴ باب ۱۴۔اور جدعون نے جو کچھ کیا ہے وہ کتاب قاضی ۶ باب ۳۶ - ۴۰ درس سے ظاہر ہے۔کیسے امتحانات کرتا رہا۔ذرا منصف عیسائی اس پر پھر غور کریں۔دوسرے سوال کا جواب میں نے قرآن کریم کو اس سوال کے خیال پر بہت بار دیکھا مگر با ہمہ تامل وتشکر مجھے کچھ معلوم نہ ہوا کہ سائل نے قرآن مجید کی کون سی آیت سے ایسا سوال نکالا۔خاکسار سائل کے سوال کو بغرض سہولت بیان تین حصوں پر تقسیم کرتا ہے۔حصہ اوّل سوال کا یہ ہے۔اگر محمد پیغمبر ہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم ہے یعنی مجھے معلوم نہیں۔۱۴