تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 15
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۵ خاکسار عرض پرداز ہے۔مخالف اور موافق لوگوں نے حضور علیہ السلام سے جس قدر سوال کئے اُن کا جواب اگر ممکن تھا تو حضور علیہ السلام نے ضرور دیا ہے۔قرآن میں حسب ذیل سوالات کا تذکرہ موجود ہے منصف غور کریں۔اوّل رمضان کے مہینہ اور روزوں کے چاند کا تذکرہ جب قرآن کریم نے کیا تو لوگوں نے رمضان کے اور اور چاندوں کا حال دریافت کیا۔جیسے قرآن کہتا ہے۔اور ماہ رمضان کے تذکرہ کے بعد اس سوال کا تذکرہ کرتا ہے:۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ (البقرة : ١٩٠) پوچھتے ہیں تجھ سے رمضان کے سوا اور چاندوں کا حال یعنی ان میں کیا کرنا ہے اس سوال کا جواب سوال کے بعد ہی بیان کیا گیا اور جواب دیا۔قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج تو اس سوال کے جواب میں کہہ دے یہ چاندلوگوں کے فائدہ اٹھانے کے وقت ہیں اور بعضے چاندوں میں حج کے اعمال ادا کئے جاتے ہیں۔دوسرا سوال یہ ہے۔يَسْلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ (البقرة :۲۱۶) سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں۔اس کا جواب قرآن نے دیا ہے مَا انْفَقْتُم مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ جو کچھ خرچ کرو مال سے تو چاہیئے کہ وہ تمہارا دیا اور خرچ کیا تمہارے والدین اور تمہارے رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کے لئے ہو۔تیسرا سوال - يَتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ (البقرة: ۲۱۸) پوچھتے ہیں تجھ سے حرمت والے مہینہ کے متعلق کہ اس میں جنگ کا کیا حکم ہے ؟ تو جواب دیا قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرٌ وَصَدُّ عَن سَبِیلِ اللهِ تو جواب دے۔اس مہینہ میں لڑائی کرنا بری بات ہے اور اس سے حج و عمرہ کیسی عبادت سے روکنا لا زم آتا ہے۔چوتھا سوال - يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ (البقرة: ۲۲۰) پوچھتے ہیں تجھ سے شراب اور جوئے کی بابت۔تو جواب دے فِيهِمَا اثم كَبِير شراب خوری اور قمار بازی نہایت بڑی اور بری بدکاری ہے۔۱۵