تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 13
ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ۱۳ گر ازین ( یہ ایک گاؤں کا نام ہے جو افسوس اور ملامت کے قابل نہیں ) تجھ پر افسوس ہے اے بیت صیدا ( یہ بھی گاؤں ہے ) تجھ پر افسوس متنی الباب ۲۱۔اسے یروشلم ! اے یروشلم ! ( یہ بیت المقدس ہے) جو نبیوں کو مار ڈالتی ہے متی ۲۳ باب ۳۷۔ایسی صدہا کتب مقدسہ صدہا جگہ دیکھ لو۔اب اس طرح کے محاورات قرآن کریم سے سنو۔طلاق دو۔(1) يَايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء (الطلاق:۲) اے نبی ! جب تم لوگو ! عورتوں کو (٢) يَايُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكَفِرِينَ وَالْمُنْفِقِينَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (الاحزاب :۲) اے نبی خدا سے ڈر اور کفار کی فرمانبرداری اور منافقوں کی اطاعت مت کر بیشک اللہ تعالے جو کچھ تم ( عام لوگوں کو خطاب ) کرتے ہو اس پر خبر دار ہے۔(۳) وَسُئَلُ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَا (الزخرف: ۴۶) پوچھ اُن رسولوں سے جو تجھ سے پہلے گزرے۔ان مقامات میں دیکھ لو یا “ کے لفظ سے مخاطب کون ہے اور طَلَّقْتُم سے کون۔الی کے لفظ میں مخاطب کون اور تَعْمَلُونَ کے لفظ سے کون معلوم ہوتا ہے۔مَنُ سے مراد کون ہے اور قَبلِكَ کس کا پتہ دیتا ہے۔پانچواں جواب۔میں نے مانا لا تَكُونَنَّ نہی کا صیغہ ہے اور نہی بھی بمعنی طلا ترک ہے اور یہاں مخاطب بھی سرور کائنات اور فخر موجودات ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور مراد بھی وہی ہیں مگر میں کہتا ہوں جب لا تَكُن نہیں کے صیغہ پر نون مشدده تاکید کے لئے آیا اور نون تاکید مشد د ماضی اور حال پر ہر گز آتا نہیں۔جس فعل پر آتا ہے اس کو استقبالی فعل کر دیتا ہے۔پس لَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ کے معنے یہ ہوں گے:۔اے محمد تو زمانہ ماضی اور حال میں شک کرنے والا نہیں رہا۔اب آگے زمانہ استقبال ۱۳