تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 123

۱۲۳ مبادى الصرف و النحو تعریف علم صرف ایک لفظ کو رنگ برنگ معانی کے لئے مختلف شکلوں میں لانے کے قواعد کو علم صرف کہتے ہیں۔فائدہ صرف اس علم کا فائدہ یہ ہے۔ایک لفظ کے معنے معلوم ہونے سے اس لفظ کی جماعت کے معانی معلوم ہو سکتے ہیں۔دیکھو فقرہ نمبر ۴ سبق پہلا۔چھٹا سبق فعل کی تعریف فعل وہ لفظ ہے جو ظاہر کرے کہ فلاں کام کسی سے ظاہر ہو چکا یا ہوتاہے یا ہوگا یا کسی کے ساتھ قائم ہوایا ہے یا ہوگا اور ایسے فعل کو فعل معلوم کہتے ہیں جیسے آمَنْ - نَعْبُلُ - نَسْتَعِيْن۔یا یہ بتاوے کہ فلاں بات کسی پر واقع ہو چکی یا واقع ہورہی ہے یا واقع ہوگی تو اسے فعل مجہول کہتے ہیں جیسے عُلِمَ - يُنْصَرُ اقسام فعل فعل کے اقسام ا۔ماضی ۲۔حال و ۳۔مستقبل۔حال و مستقبل کو مضارع بھی کہتے ہیں۔۴۔امر ۵۔نبی ۶۔جمدے نفی اور فعل تعجب فعل کے اقسام ہیں نیز فعل لازم ہوتے ہیں جیسے جلس۔حَسُنَ كَرُمَا مَن اور متعدی جیسے عَبَدَ وَحدَ اور اشترك نصر اور طلب۔نیز فعل کبھی ثلاثی لے امن کے معنی ہیں کہ ایمان فلاں شخص سے ظاہر ہو چکا۔عبادت کا فعل ہم سے ظاہر ہوتا ہے اور ہوگا۔سے مدد طلب کرنے کا فعل ہم سے ظاہر ہوتا ہے یا ہو گا۔کے جانا گیا۔ے مدددیا گیا۔۹