تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 122

۱۲۲ مبادى الصرف و النحو پھر لفظی کی دو قسمیں ہیں۔اوّل یہ کہ علامت تانیث لفظوں میں ہو۔یہ قیاسی کہلاتی ہے۔دوم علامت تانیث لفظوں میں نہ ہو جیسے آرض (زمین) اس کا نام سماعی مؤنث ہے۔۴۔مؤنث کی عام علامت ت ہے۔پس عام قاعدہ مؤنث بنانے کا یہی ہے کہ مذکر کے آخر لگادی جائے جیسے عالم سے عَالِمَةٌ مگر جن الفاظ کے آخرالف بشکل می ہو وہ ۃ لگانے کے وقت الف گر جائے گا۔جیسے فتح ( جوان لڑکا ) فتاة (جوان لڑکی ) ۵۔مندرجہ ذیل الفاظ مونث بولے جاتے ہیں۔(الف) عورتوں کے نام اور وہ الفاظ جو عورتوں کے لئے خاص ہیں جیسے خديجة اخت عروس - حائض - طامث - ( ب ) اسمائے مشتقہ جن کے آخرة داخل ہو۔جیسے عَالِمَةٌ - ( ج ) جن اسموں کے آخری آئے۔جیسے سلمی (عورت کا نام ) حَسَنَاء (بہت خوبصورت ) مگر جب ہی اصل لفظ کا جزو ہو تو مؤنث نہ سمجھ لینا جیسے موسیٰ۔( د ) جن اسموں کے آخر ! آوے جیسے صحراج (جنگل)۔(0) ملکوں اور شہروں کے نام جیسے مصر و مکہ۔(و) ہوا، آگ، شراب وغیرہ کے نام جیسے ربیع (ہوا) شمال (بادشمال ) ناژ (آگ) خمر (شراب) ( ز ) جسم کے دہرے اعضاء ہاتھ ، پاؤں، کان، آنکھ وغیرہ اکثر مؤنث ہیں۔( ح ) کل جمع مؤنث ہوتی ہیں سوالات (۱) مؤنث حقیقی لفظی ، سماعی اور قیاسی کی تعریف کرو۔(۲) مؤنث کی عام علامت کیا ہے۔(۳) مؤنث بنانے کا کیا قاعدہ ہے مثال دے کر بتاؤ۔(۴) وہ کون سے اسماء ہیں جو مؤنث بولے جاتے ہیں۔