تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 119 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 119

۱۱۹ مبادى الصرف و النحو ساتھ قائم ہوایا ہے یا ہو گا۔جیسے آمنتُ بِاللهِ (ایمان لایا میں ساتھ اللہ کے ) يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ایمان لا رہے ہیں یا لائیں گے ساتھ غیب ( اسْلَمْتُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (فرمانبردار ہو چکا میں رب العالمین کا )۔حرف وہ لفظ ہے جو دوسرے لفظوں کے ملنے سے اپنا مفہوم ظاہر کرے اور ان کے تعلقات کو بتائے جیسے آمَنْتُ بِاللهِ وَ سِرْتُ مِنْ بَيْتِي إِلَى مَكَّةَ وَ صَلَّيْتُ فِي الْمَسْجِدِ الحرام۔بہر حال حرف اصطلاحاً دو چیزوں کے باہم رشتہ تعلق کو پیدا کر دیتا ہے۔سوالات (۱) قول مفرد کی کتنی قسمیں ہیں۔(۲) ہر ایک قسم کی تعریف کرو۔(۳) اسم کی سات مثالیں دو۔(۴) پانچ فعل بیان کرو۔(۵) حرف کی مثال۔(۶) ان فقرات میں سے اسم فعل اور حرف جدا جدا کرو۔(الف) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَ سَلِّمْ - (ب ) رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً - (ج) سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ - تیسر اسبق ا۔اسم کی پھر تین قسمیں ہیں۔یہ تقسیم اُس کی بناوٹ کے لحاظ سے ہے۔جامد۔مصدر اور مشتق۔(الف) جامد وہ اسم ہے جو نہ کسی لفظ سے بنا ہو اور نہ اس سے کوئی لفظ بنے مثلاً فعل وغیرہ سے۔(ب) مصدر وہ اسم ہے جو کسی کام کوکسی سے ہونے یا کرنے کو بتائے یا کسی چیز پر کسی بات کے وقوع کو ظاہر کرے جیسے العِلْمُ ( جاننا ) الْحَمْدُ (ستائش کرنا) ( ج ) اسم مشتق وہ اسم ہے جو مصدر سے بنایا جاوے اور مصدر کے معنے اور اصلیت اس میں پائی جائے جیسے عالم مصدر علم کے معنے ہیں جاننا اس سے اسم مشتق عالم کے معنے جانے والا۔معلوم کے معنے جانا گیا وغیرہ ایسا ہی حمد کے معنے تعریف کرنا، محمد کے معنے تعریف کیا گیا،