تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 61

۶۱ ابطال الوہیت مسیح با ہم اختلاف میں وعدہ فرمایا تھا عیسی آدمی کی طرح ہے۔آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو دوسرے تیسرے تولد نئی زندگی نبوت کے واسطے منتخب فرمایا اور وہ ایسے ہی ہو گئے۔یہ ٹھیک دلیل یا بات ہے تیرے رب کی طرف سے ) کہ حضرت مسیح میں بشریت سے بڑھ کر کوئی بات نہ تھی۔معجزے، عجائبات، عمدہ تعلیم ، یہ باتیں انبیا میں ہوا کرتیں ہیں حالانکہ وہ بشر ہوا کرتے ہیں ) پھر کبھی نہ ہوگا تو او مخاطب یا کبھی نہ رہیو شک کرنے والا۔اور اگر کوئی نادان اس دلیل کے بعد پھر بھی حجتیں کرے تو ایسے احمقوں سے یوں مقابلہ چاہئے کہ اُن سے مباہلہ کر لو اور کہو آؤ بلائیں اولادیں اپنی اور تمہاری اولاد اور عورتیں تمہاری اور اپنی اور اپنے آدمی اور تمہارے پھر عاجزی سے دعا مانگیں کہ الہی لعنت ہو جھوٹوں پر۔بے ریب یہ صاف اور عمدہ ٹھیک بیان ہے۔اور اللہ کے سوا کوئی بھی فرمانبرداری کا مستحق نہیں اور اللہ وہی غالب ہے حکمتوں والا۔پھر اگر اس پر پیٹھ دیں تو جان لو اللہ ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے تو کہ وے او کتاب والو آؤ ایسی بات کی طرف کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے فرمانبردار نہ پینے اور شریک نہ کریں اس کے ساتھ کسی چیز کو اور نہ بنالے بعض ہمارا بعض کو رب کہ خدا کی طرح اس کی فرمانبرداری اپنے ذمہ واجب جانے۔اگر اس مسلم الطرفین بات کو بھی نہ مانو تو کہ دو گواہ رہو ہم تو اللہ کے فرمانبردار ہیں مسلمان ہیں۔ایک ضروری اور عجیب یاد داشت عام اور مسلم قاعدہ ہے کہ جس قدر کسی اثر کے قبول کرنے والی چیز کوکسی طاقتو راور اثر کرنے والی چیز سے تعلق اور اتحاد ہو جاتا ہے۔اسی قدر متاثر اور اثر کے لینے والی چیز مؤثر اور اثر کرنے والی چیز کے الوان ، اوصاف سے متلون اور موصوف ہو جاتی ہے۔کون نہیں جانتا کہ لوہا جب تیز آگ میں ڈالا جاتا ہے تو آگ کے آثار اور اوصاف سے متاثر نہیں ہو جاتا۔مجھے یقین ہے کہ اگر لو ہے کو اس وقت گویائی کی طاقت عطا ہو جاوے تو کہہ دے اَنَا النَّارُ ( میں آگ ہوں)۔یا کسی منصف اور عادل حاکم کا دیانت دار اور اپنی نوکری میں چست و چالاک نوکر گورن کے وقت اپنی ۲۹