تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 62 of 144

تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 62

۶۲ ابطال الوہیت مسیح گورنمنٹ کا ظقتی طور کا نمونہ ہوتا۔مجھے تو یقین ہے کہ ایسے ماتحت کی حکم عدولی اور اس کی بغاوت اس کی گورنمنٹ کی حکم عدولی ہے۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ کی مقدس اور ہمہ طاقت جناب میں اگر کسی انسان کو تعلق اور اللہ تعالیٰ کی پاک جناب میں کسی سعادت مند کو اپنی قوت ایمان اور صالحہ اعمال کے باعث میل جول ہو جاتا ہے تو اُس کو بقدر ایمان اور اعمال صالحہ کے عنایات ربانیہ سے ایسا فیض اور انعام حاصل ہوتا ہے کہ وہ شخص مظہر انوار اور برکات اللہ بن جاتا ہے۔حضرات انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی گرامی ذات کو حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کی معلیٰ بارگاہ سے ایسا تقرب اور تعلق ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے محبت کرتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے باعث اور کسی سے ناراض ہوتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے باعث۔اُن کی کمان الہی کمان سے وہ اتحاد رکھتی ہے کہ دونوں کمانوں کے دو قاب بجائے دو کے ایک ہی نظر آتے ہیں اور چونکہ عنایات ربانیہ کا مظہر ہونا کامل عبودیت اعلیٰ درجہ کے عجز وانکسار اور پکے اخلاص کے ساتھ استقامت اور استقلال کا نتیجہ ہوا کرتا ہے اور حضرت انبیاء کرام اور ان کے جانشینان پاک اولیاء عظام کو صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامٌ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَام جو عبودیت واخلاص و استقامت وغیرہ وغیرہ میں عامہ خلائق سے ممتاز اور کا فہ انام سے بڑھ کر خصوصیت رکھتے ہیں۔اسی واسطے خاص خاص عنایات ایزدی کے مور دبنتے ہیں کہ ان کی نسبت یہ کلمات سنائے جاتے ہیں اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله بے ریب وہ لوگ جو تجھ سے فرمانبرداری اور تیرے اتباع کا معاہدہ کرتے وہ اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کرتے ہیں اور ان پر بقدر ان کی عبودیت کے اس مکالمہ الہیہ اور مخاطبت ربانیہ کا نزول ہوتا ہے جسے الہامی الہامات میں روح القدس اور ہولی گھوسٹ کہتے ہیں جیسے قرآن کریم میں آیا ہے۔وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا یہی تو حید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید تھری ون اور ون تھری کا مضمون تھا جس کو عیسائی نہ سمجھ کر شرک میں گرفتار ہو گئے اور نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے پاک اشخاص انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کو دنیا کی ہدایت کی واسطے مبعوث فرماتا ہے تو جو کچھ وہ فرماتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کا الفتح : اا الشورى : ۵۳ ۳۰