تصانیف حضرت حکیم مولانا نورالدین — Page 43
۴۳ ابطال الوہیت مسیح قرآن میں متعدد جگہ باری تعالیٰ کی ذات بابرکات کو بصیغہ جمع تعبیر فرمایا ہے دیکھو إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ س۴ اس حجر - عا۔بے شک ہم ہی نے اس قرآن کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔نَحْنُ خَلَقْنَكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ ل س ۲۷۔اس واقعہ ۲۶۔ہم ہی نے تم کو پیدا کیا پھر تم تصدیق نہیں کرتے نَحْنُ قَدَّرُنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِینَ کے س ۲۷ اس واقعہ۔۲۔ہم ہی نے تم میں موت کو مقدر کیا اور ہم کو کوئی جیت نہیں سکتا۔اور مسلمان قرآن کے تمام جملوں پر ایمان لائے ہیں۔موسیٰ اور ابراہیم وغیرہ انبیا ءاگر ایسے ہی مجمل برا الوہیم کے جملہ میں الو ہیم کو جمع بولنے سے نجات پاگئے تو مسلمان باری تعالیٰ کی ذات واحد پر جمع کے کلمات بولنے سے کیوں نجات نہ پاویں گے۔رہا تفصیلی ایمان۔اول تو وہ عیسائیوں کو بھی حاصل نہیں کیونکہ وہ تثلیث اور الوہیت کے بھید کو سمجھنے کے لئے انسانی عقل کو قاصر خیال کرتے ہیں مسیح سے پہلوں کو کیونکر حاصل ہوگا۔دوم کتب سابقہ میں تفصیل موجود نہیں۔بعد تسلیم ان سب مراحل کے عیسائیوں کی خدمت میں عرض ہے مسیحی لوگو انفس تثلیث یا جمع کے کلموں سے مسیح کی الوہیت کو کیا تعلق ہے۔دوسری دلیل :- و يومر يهواه الوهيم بن ها آدم کا حد ممنو۔ترجمہ:- کہا خدا نے ہو گیا آدم ہم میں سے ایک کی مانند۔اس آیت سے تثلیث ثابت ہوئی جواب :۔اس ترجمہ میں کاحمد کا ترجمہ ایک عام تراجم کے طور پر کیا گیا ورنہ اس کا ترجمہ حقیقت میں یکہ ہے۔ایوب ۲۳ ۱۳۔غزل الغزلات ۷۔۹۔اور ممنو کا لفظ مرکب ہے من اور ھو سے۔ترکیب کے وقت عبری زبان میں جیسے عربی میں نون وقایہ ہوتا ہے ایک نون لاتے ہیں اس ل من هو من نھو ہو گیا اور عبری میں ہا اور نون بدل جاتے ہیں اس لئے من هو ، من نهو بن کر من ننو ہو گیا۔تین نون جمع ہونے سے پہلا نون میم سے بدل گیا اور باقی دونو۔ہاں دونو نون ایک دوسرے میں مدغم ہوئے۔تحقیقات بالا سے صاف ظاہر ہے کہ یہ صیغہ غائب کا ہوا نہ متکلم مع الغیر کا جیسا عیسائیوں نے خیال کیا ہے۔پس ممنو کا ترجمہ ہو گیا۔اس میں سے نہ ہم میں سے۔الحجر: ١٠ الواقعة: ۵۸ 11 الواقعة: ٦١