365 دن (حصہ سوم) — Page 91
درس القرآن 91 درس القرآن نمبر 229 قُلْ أَطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ (آل عمران : 33) اسلام اور عیسائیت کی کش مکش میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اطاعت کس کی فرض ہے ؟ عیسائیت نے اللہ کی اطاعت چھوڑ دی اللہ نے ان کی کتاب میں بھی توحید کا حکم دیا تھا شریعت پر عمل کا حکم دیا تھا سور کو حرام قرار دیا تھا ایک سے زیادہ شادی کی اجازت تھی۔طلاق کی اس شرط سے اجازت دی تھی کی طلاقنامہ لکھ کر دیا جائے مگر عیسائیوں نے ان سب باتوں کی نافرمانی کا فتویٰ دیا۔خدا کے بعد اس کی اطاعت ضروری ہے جو خدا کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے یسوع نے جو خدا کا رسول تھا (نبی اور بھیجا ہوا دونوں الفاظ یسوع کے متعلق نئے عہد نامہ میں استعمال ہوئے ہیں) نے صاف فرمایا تھا کہ یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔“ مگر عیسائیوں نے علی الاعلان اس فرمان کی اطاعت نہیں کی۔یسوع نے کہا کہ ” میں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔“ اور اپنے متبعین کو حکم دیا کہ وو غیر قوموں کی طرف نہ جانا مگر عیسائی علی الاعلان اس حکم کی اطاعت سے منکر ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ عدی بن حاتم نے حضور صلی الم سے عرض کیا کہ قرآن شریف اہل کتاب کے بارہ میں کہتا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے ؟ عدی نے کہا کہ وہ تو ان کی عبادت نہیں کرتے ؟ اس پر آپ صلی یہی ہم نے فرمایا کہ کیا وہ لوگ جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اس کو حرام قرار نہیں دیتے اور جو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو حلال نہیں کرتے ؟ عدی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ایسا ہی ہے۔اس پر حضور صلی علیم نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو یہی ان کا معبود بننا ہے۔(روح المعانی زیر آیت سورۃ التوبہ آیت نمبر 31 جلد 10 صفحہ 387 دار الاحیاء التراث العربی بیروت 1999ء)