365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 92 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 92

درس القرآن 92 درس القرآن نمبر 230 إِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَ آلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَلَمِيْنَ ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (آل عمران : 34،35) اب اس آیت سے با قاعدہ عیسائیت کا آغاز اور اس کی تعلیم اور اس کی بنیادی تاریخ کا ذکر کر کے اسلام سے موازنہ کیا ہے۔فرماتا ہے کہ ابتداء عیسائیت سچا مذ ہب تھا اور دنیا کے اس دور کی جس کی ابتداء آدم سے ہوئی جو انسانیت کے ترقی یافتہ تمدن کا ابتدائی نقطہ تھا کے تسلسل میں عیسائیت شامل ہے پھر آدم کے ذریعہ تمدنی ترقی کے بعد نوح کی شریعت کا سلسلہ شروع ہوا اور احکام شریعت وسیع پیمانہ پر دیئے گئے پھر یہ ارتقاء کا سلسلہ حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان تک ممتد ہوا اور پھر حضرت مریم اور حضرت عیسی کے خاندان تک پہنچا۔اس لئے عیسائیت اپنی ابتداء سے خاندانِ عمران تک سچائی پر قائم تھی۔فرماتا ہے اللہ نے آدم اور نوح کو اور ابراہیم کے خاندان اور عمران کے خاندان کو یقیناً سب جہانوں میں ممتاز مقام دیا ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضِ اللہ نے ایک ایسی نسل کو فضیلت کا یہ مقام دیا بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ جو ایک دوسری سے پوری مطابقت رکھنے والی تھی اور اللہ بہت سننے والا ، جاننے والا ہے۔(آل عمران : 36) اذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمران جب عمران کے خاندان کی ایک عورت نے کہا رَبّ اتی نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطنِى مُحَزَرًا فَتَقَبَّلْ مِنّى جو کچھ میرے بطن میں ہے اسے آزاد کر کے میں نے تیری نذر کر دیا ہے پس اسے تو میری طرف سے قبول فرما إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ يقيناً تو بہت ہی سننے والا، بہت جاننے والا ہے۔فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أنثى پھر جب وہ اسے جنم دے کر فارغ ہوئی تو انہوں نے کہا میں نے اسے لڑکی کی شکل میں جنا ہے واللهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ اور جو کچھ اس نے جنا تھا اسے اللہ سب سے زیادہ جانتا تھا وَ لَيْسَ الذَّكَرَ كَالا نٹی اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہو تا جو فوائد اور برکات لڑکی سے ملتے ہیں وہ لڑکے سے تو نہیں مل سکتے وَإِنِّي سَيْتُهَا مَرْيَمَ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے یعنی وہ جو اپنے گھر سے بہت دور چلی جائے گی وَإِنِّي أَعِيْنُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيطِنِ الرَّحِیمِ اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حملوں سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(آل عمران : 37)