365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 66 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 66

درس القرآن 66 القرآن نمبر 210 نَزِّلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ مُصَدِقَا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَ أَنْزَلَ التَّوْرَيةَ وَالْإِنْجِيلَ مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَ انْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ (آل عمران: 4، 5) ذُو انتقام اس سورۃ کی ابتداء سے ہی سورۃ البقرۃ کا وہ مضمون کہ قرآن شریف اور اسلام کی عالمی کش مکش عقائد کے لحاظ سے بھی اور عملاً بھی بنی اسرائیل کی دونوں شاخوں یہود و نصاریٰ سے ہو گی شروع ہو جاتا ہے۔بالخصوص جس طرح سورۃ البقرۃ کا خصوصی تعلق یہودیت سے کش مکش تھا اس سورۃ کا تعلق عیسائیت کی بگڑی ہوئی صورت سے ہے اور پہلی آیت میں ہی قابل عبادت ہستی کو حی و قیوم کہہ کر الوہیت یسوع کی جڑ کاٹ دی ہے۔پھر قرآن مجید کا یہ مقابلہ تورات، انجیل کے اترنے کا بیان ہے اس کی وجوہات یہ بتائی ہیں کہ قرآن مجید بِالْحَقِّ اترا ہے یعنی کامل صداقتوں اور کامل تعلیم کے ساتھ اترا ہے جبکہ مثلاً تورات ساری دنیا کے لئے نہیں بلکہ صرف 12 قبائل کے لئے تھی اور انجیل بھی کامل صداقتوں پر مشتمل نہیں تھی کیونکہ خود اس میں یسوع کا اقرار موجود ہے کہ میری اور بھی باتیں ہیں جن کو تم اب برداشت نہیں کر سکتے مگر وہ کامل سچائی کی روح آکر تمہیں سب باتیں بتائے گی۔دوسری بات یہ بتائی کہ قرآن شریف ان دو کتابوں کے لئے جو اس سے پہلے نازل ہوئی تھیں تورات و انجیل ان کی تصدیق کرنے والا ہے اگر قرآن نازل نہ ہو تا تو تورات وانجیل کی پیشگوئیاں پوری نہ ہو تیں پھر قرآن هدى للناس ہے ساری دنیا کی ہدایت کے لئے ہے جب تورات و انجیل کا دائرہ محدود ہے وَ انْزَلَ الْفُرقان اور قرآن بہ مقابلہ تورات و انجیل فیصلہ کن حکم کی حیثیت رکھتی ہے مقابلہ کر کے دیکھ لو قرآن کے بیان زیادہ سچے اور حکیمانہ ہیں یا تورات و انجیل کے۔پس إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيد جن لوگوں نے اللہ کے نشانات کا انکار کیا ہے ان کے لئے یقیناً سخت عذاب مقدر ہے وَاللهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامِ اور اللہ غالب اور سزادینے والا ہے۔