365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 65 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 65

درس القرآن 65 درس القرآن نمبر 209 بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - الم - اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (آل عمران : 1 تا 3) یہ آیات سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیات ہیں سورۃ آل عمران قرآن شریف کی تیسری سورت ہے یعنی سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ کے بعد۔قرآن شریف کی پہلی سورۃ جو تمام قرآن مجید کے خلاصہ اور عطر کی حیثیت رکھتی ہے کے بعد چار سورتیں ہیں سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران، سورۃ النساء، سورۃ المائدۃ۔سورۃ الفاتحہ کے بعد ان چار سورتوں میں ایک اشتراک ہے کہ یہ چاروں سورتیں اسلامی شریعت کے بنیادی عقائد اور بنیادی احکام کے بیان پر مشتمل ہیں اور دوسرے ان چاروں میں ان دو قوموں سے اسلامی مقابلہ اور کش مکش کا ذکر ہے جو عالمی سطح پر ان قوموں سے ہونا تھی۔سورۃ البقرۃ میں نسبتاً زور یہود پر ہے اور آل عمران میں نسبتاً زور عیسائیت پر ہے اس سورۃ کے متنوع مضامین میں سے ایک مضمون عیسائی دنیا سے اسلام کا تکلیف اٹھانا بھی ہے اور اس سلسلہ میں غزوہ احد کا ذکر بھی ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمانوں کی عیسائیوں سے تکالیف کا باعث شاید اسی طرح کی غلطیوں کا خمیازہ ہے جن غلطیوں کے مرتکب بعض مسلمان احد کے موقع پر ہوئے اور حضور صلی علیم کے حکم کی وقتی نافرمانی سے مسلمانوں نے تکلیف اٹھائی مگر ساتھ ہی رسول اکرم صلی کم پر فدائیت کے زبر دست نمونے دکھائے۔الم کے معنے سورۃ البقرۃ میں گزر چکے ہیں اس کے بعد فرماتا ہے اللهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ اس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے:۔و ہی اللہ ہے اس کا کوئی ثانی نہیں اسی سے ہر ایک کی زندگی اور بقا ہے۔“ نور القرآن نمبر 1 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 334) دیکھئے کسی وضاحت سے عیسائی دنیا کے اس عقیدہ کو ر ڈ کیا ہے کہ یسوع قابل عبادت ہے۔فرماتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی۔کیوں ؟ کیونکہ اللہ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہے۔ہمیشہ زندہ ہے اور دوسروں کے قائم ہونے اور رہنے کا ذریعہ ہے۔اب ہر عیسائی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یسوع صلیب پر مر گیا اور تین دن قبر میں رہا۔اگر تمہارے اپنے عقیدہ کے مطابق یسوع مر گیا تھا اور تین دن قبر میں رہا تھا وہ قابل عبادت کس طرح ہو گیا۔