365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 1 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 1

درس القرآن بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالناصر رب اغفر وارحم وانت خير الراحمين درس القرآن نمبر 155 يَسْتَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا انْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتْلَى (البقرة:216) وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ سورۃ البقرۃ کا جو حصہ ہم پڑھ رہے ہیں اس میں حضرت مصلح موعودؓ کے القاء کے مطابق شریعت کے احکامات اور ان کی حکمتوں کا بیان ہے (جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے سورۃ البقرۃ میں پہلے تلاوت آیات کا مضمون ہے پھر احکام شریعت اور ان کی حکمتوں کا اور پھر تزکیہ نفس کا) موجودہ حصہ میں جو احکام شریعت اور ان کی حکمتوں کے بیان پر مشتمل ہے کے دو حصے ہیں۔ایک جن میں عبادات اور حقوق اللہ پر زور ہے اور ایک میں حقوق انسانی پر زور ہے۔یہ حصہ آج کی آیت سے شروع ہے۔فرماتا ہے کہ وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں اور کریں گے کہ وہ کیا خرچ کریں مَاذَا يُنْفِقُونَ کا ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول اس طرح فرماتے ہیں کہ :۔کہاں دیں، کتنا خرچ کریں، دونوں معنی ہیں۔“ حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 351 مطبوعہ ربوہ) حقوق العباد میں یہ مسئلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے کہ کیا خرچ کیا جائے، کتنا خرچ کیا وو جائے، اور کس پر خرچ کیا جائے ؟ اس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔چونکہ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ پہلے لوگوں پر بھی مالی اور جانی مشکلات آئی تھیں اور وہی ان کی قومی ترقی کا باعث ہوئیں جیسا کہ مَشَتْهُمُ الْبَاسَاءُ والضراء کے الفاظ سے ظاہر ہے۔اس لئے جب صحابہ نے یہ بات سنی تو ان کے دل بھی ان قربانیوں کے لئے بے تاب ہو گئے اور انہوں نے بے اختیار ہو کر روحانی ترقیات کے حصول کیلئے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر قومی ترقی کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں بھی بتایا جائے کہ ہم کیا خرچ کریں تا کہ ہمارا قدم بھی عشق کے میدان میں کسی دوسرے سے