365 دن (حصہ سوم) — Page 171
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 101 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔171 ”انسان کی حقیقت: انسان اصل میں انسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی انس ہوں۔ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسر اپنی نوع انسان کی ہمدردی سے۔جب یہ دونوں انس اس میں پیدا ہو جاویں۔اس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اولو الألباب کہلاتا ہے۔جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ہزار دعویٰ کر دکھاؤ، مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک بیچ ہے۔اسوۂ انبیاء علیہم السلام: پھر یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجو د ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الہی لکھاتا، مگر اس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور ان کی معرفت کلام الہی نازل فرمایا۔اس میں یہی ستر یہ تھا کہ تا انسان جلوہ الوہیت کو دیکھے، جو پیغمبروں میں ہو کر ظاہر ہوتا ہے۔پیغمبر الوہیت کے مظہر اور خدا نما ہوتے ہیں۔پھر سچا مسلمان اور معتقد وہ ہوتا ہے، جو پیغمبروں کا مظہر بنے۔صحابہ کرام نے اس راز کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ رسول اکرم صلی لنی کیم کی اطاعت میں ایسے گم ہوئے اور کھوئے گئے کہ ان کے وجود میں کچھ اور باقی رہا ہی نہیں تھا۔جو کوئی ان کو دیکھتا تھا ان کو محویت کے عالم میں دیکھتا تھا۔پس یاد رکھو کہ اس زمانہ میں بھی جب تک وہ محویت اور وہ اطاعت میں گمشدگی پیدا نہ ہو گی جو صحابہ کرام میں پیدا ہوئی تھی۔مریدوں معتقدوں میں داخل ہونے کا دعویٰ تب ہی سچا اور بجا ہو گا۔یہ بات اچھی طرح پر اپنے ذہن نشین کر لو کہ جب تک یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تم میں سکونت کرے اور خدا تعالیٰ کے آثار تم میں ظاہر ہوں۔اس وقت تک شیطانی حکومت کا عمل و دخل موجود ہے۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 416 417 مطبوعہ ربوہ) دو محبتیں أولُو الْأَلْبَابِ عقل مند انان محویت خود فراموشی ، خیال میں ہونا سکونت بود و باش، قیام