365 دن (حصہ سوم) — Page 172
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 102 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔172 انسان اور بہائم میں فرق: بچپن کی عمر کا ذکر ہو ا فرمایا کہ: انسان کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتا ہے۔بچوں میں عادت ہوتی ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں۔آپس میں گالی گلوچ ہوتے ہیں۔ذرا ذراسی باتوں پر لڑتے جھگڑتے ہیں جوں جوں عمر میں وہ ترقی کرتے جاتے ہیں عقل اور فہم میں بھی ترقی ہوتی جاتی ہے۔رفتہ رفتہ انسان تزکیہ نفس کی طرف آتا ہے۔انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گائے بیل وغیرہ جانوروں ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے۔صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کر نیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے۔کیونکہ بہائم میں تعلیم کا مادہ نہیں ہو تا۔سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب و روز محنت کرتا۔ایک حکیم نے اسے کہا کہ اے بیوقوف تو یہ کیا کرتا ہے ؟ اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے ؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہو گا تو بھی کہیں گدھانہ بن جاوے۔در حقیقت انسان میں کوئی ایسی الگ شے نہیں ہے جو کہ اور جانوروں میں نہ ہو۔عموماً سب صفات درجہ وار تمام مخلوق میں پائے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انسان اپنے اخلاق میں ترقی کرتا ہے اور حیوان نہیں کرتا۔اخلاق کی حقیقت دیکھوار نڈ کا تیل اور کھانڈ کیسے غلیظ ہوتے ہیں ، لیکن جب خوب صاف کیا جاوے تو مصفی ہو کر خوشنما ہو جاتے ہیں۔یہی حال اخلاق اور صفات کا ہے۔اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں جب ان کو بے موقعہ اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ برے ہو جاتے ہیں اور ان کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب ان ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقعہ پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کا موجب ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ( الفلق : 6) اور دوسری جگہ السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ اب سبقت لے جانا