365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 13 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 13

درس القرآن 13 درس القرآن نمبر 164 وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرُضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ 609 سميع عليم (البقرة:225) بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے مضمون کا وہ حصہ جو عائلی تعلقات پر مشتمل ہے چل رہا ہے اور قرآن شریف میں عائلی تعلقات کو سدھارنے اور عائلی حقوق کی صحیح صحیح ادائیگی پر غیر معمولی زور ہے اور ظاہر ہے کہ انسانی زندگی میں خاندانی تعلقات کی جو اہمیت ہے وہ محتاج بیان نہیں۔آج کی مشرقی دنیا نہیں بلکہ مغربی دنیا میں بھی خاکسار کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بہت سے فساد اور تلخیاں عائلی مسائل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے قرآن شریف نے اس بات پر خاص توجہ دلائی ہے۔عائلی تعلقات میں رخنہ کی ایک اہم وجہ یہاں دو آیات میں بیان کی گئی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے نام کا غلط استعمال۔خدا تعالیٰ کے نام کی قسم کھا کر جو ارادہ کیا جائے جو فیصلہ کیا جائے اس کا احترام کرنا اور اس کے تقدس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے مگر خدا تعالیٰ کے نام کے احترام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کا غلط استعمال نہ کیا جائے اور خدا تعالیٰ کا نام حسن سلوک اور انصاف اور اصلاح کے رستہ میں حائل نہ بنالیا جائے اور عائلی تعلقات میں یہ بات رخنہ کا باعث بن سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔قرآن شریف کی رو سے لغویا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں۔“ (الحکم جلد 8 نمبر 22 مؤرخہ 10 جولائی 1904ء صفحہ 7 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول صفحہ 707) اس آیت میں فرمایا وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرُضَةً لِاَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بيْنَ النَّاسِ کہ تم نیک سلوک کرنے اور تقویٰ کرنے اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کے معاملات میں اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ وَ اللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔وَ اللهُ سَمِیعٌ عَلِیم میں بتایا کہ اگر تمہیں نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بَيْن النَّاسِ