365 دن (حصہ سوم) — Page 12
درس القرآن 12 س القرآن نمبر 163 نِسَاؤُكُمْ حَرْثَ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ عَلَى شِشْتُهُ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلْقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (البقرة:224) کہ تمہاری بیویاں تمہاری ایک قسم کی کھیتی ہیں اس لئے تم جس طرح مناسب سمجھو اپنی کھیتی کے پاس آؤ اور اپنے لئے کچھ آگے بھیجو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے روبرو ہونے والے ہو اور تو مومنوں کو اس بارہ میں خوشخبری دے دے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس فقرہ سے کہ ”عور تیں تمہاری ایک قسم کی کھیتی ہیں“ بعض مضامین تفسیر کبیر میں بیان فرمائے ہیں جن کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:۔اس آیت میں عورت کو کھیتی قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنی کھیتی کو پھل دار بنانے کی کوشش کرو اس کی طرف رسول کریم صلی ال یکم کی یہ حدیث بھی اشارہ فرماتی ہے کہ تم ایسی عورتوں سے شادی کیا کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرنے والی اور اپنے خاوندوں کے ساتھ محبت کرنے والی ہوں۔عورتوں سے ایسا سلوک کرو کہ نہ ان کی طاقت سے ضائع ہو نہ تمہاری۔اگر کھیتی میں بیج زیادہ ڈال دیا جائے تو بیج خراب ہو جاتا ہے اور اگر کھتی سے پے در پے کام لیا جائے تو کھیتی خراب ہو جاتی ہے۔پس ہر کام ایک حد کے اندر کرو جس طرح عقل مند انسان سوچ سمجھ کر کھیتی سے کام لیتا ہے۔اس آیت سے یہ بھی نکل آیا کہ بعض حالات میں برتھ کنٹرول بھی جائز ہے۔یہ بھی بتایا کہ عورت سے ایسا تعلق رکھو جس کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہو۔اس سے خلاف وضع ، خلاف فطرت فعل کی ممانعت نکل آئی۔وَقَد مُوا لانفسکم میں بتایا کہ تم وہ کام کرو جس کا آئندہ نتیجہ تمہارے لئے اچھا نکلے یعنی طبعی لحاظ سے بھی اور نسلی لحاظ سے بھی۔وَاتَّقُوا الله اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو وَاعْلَمُوا أَنَّكُم قُلقُوہ اور جان لو کہ تم بھی اس کے روبرو ہونے والے ہو وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اور اللہ خوب سننے والا ، بہت جاننے والا ہے۔