365 دن (حصہ سوم) — Page 112
112 درس حدیث نمبر 95 لِكُلِّ مُسْلِمٍ حضرت جریر بیان کرتے ہیں: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ فَاشْتَرَطَ عَلَعَ: وَالنُّصْحِ (بخاری کتاب الشروط باب ما يجوز من الشروط في الاسلام۔۔۔۔۔(2714 جیسا کوئی شخص بیعت کر کے اسلام قبول کرتا ہے تو وہ ایک نئی برادری میں شامل ہوتا ہے ایک نیا ماحول اس کو ملتا ہے نئے دوست احباب اس کے گرد اکٹھے ہوتے ہیں اور پرانی چیزوں کو چھوڑ کر نئی فضاء میں داخل ہونا لبعض دفعہ نئے مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے اور اس کے لئے نو مبائع کو جدوجہد بھی کرنی پڑتی ہے۔حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے نبی صلی ایم کی بیعت کی تو آپ صلی الی یم نے مجھ سے شرط کی والنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ کہ ہر مسلمان سے خیر خواہی اور اخلاص کا رویہ رکھوں گا۔یہ ایک بنیادی شرط اسلام میں داخل ہونے کی ہے۔بعض لوگ نمازیں بھی پڑھتے ہیں اسلامی عبادات کی ظاہری شکل پر بھی عمل کرتے ہیں مگر مسلمانوں کی ہمدردی اور غم خواری کی طرف ان کو کوئی خیال نہیں ہوتا۔یہ بات قرآن و حدیث کی روسے نہایت قابل فکر ہے۔حضور صلی الیم نے بار بار مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا ہے اور قرآن شریف بڑے زور سے فرماتا ہے اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌا کہ تمام مومن حقیقۃ بھائی بھائی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہر گز درست نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آرام پر 66 اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہر اوے۔“ (شہادت القرآن روحانی خزائن جلد 6 صفحه 395)