365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 113 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 113

113 درس حدیث نمبر 96 حضرت ابو ہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمُ ضَيْفَهُ (بخاری کتاب الادب باب اکرام الضيف و خدمته اياه بنفسه 6136) ہمارے نبی صلی ا یکم کے بلند اخلاق اور اعلیٰ درجہ کی اچھی صفات میں سے ایک مہمان کی خدمت اور اس کا احترام بھی ہے۔حضور صلی لی یکم کے پاس بہت ہی کثرت سے ملک کے گوشے گوشے سے مہمان آتے تھے۔ان کے لئے کسی لنگر خانہ کا قیام نہیں ہوا تھا۔ہمارے نبی صلی علیہ کم خود ان کے لئے کھانے اور رہائش وغیرہ کا انتظام فرماتے۔کھانے کے لئے پہلے اپنے گھروں میں پتہ کرواتے اگر گھروں میں کھانا موجود نہ ہو تو وہ اپنے صحابہ کو اس خدمت کی سعادت عطا فرماتے۔اس ضمن میں احادیث کی کتب میں بہت لطیف واقعات کا ذکر ہے جن سے مہمان کی خدمت اور اس کے اکرام کا سبق ملتا ہے۔ایک موقعہ پر حضور صلی ال کمی کی خدمت میں ایک مہمان حاضر ہوا۔جب حضور کے سب گھروں سے یہ معلوم ہوا کہ آج تو پانی کے سوا گھر میں کچھ نہیں تو آپ صلی اللہ کریم نے صحابہ سے اس بارہ میں دریافت فرمایا۔ایک صحابی نے بصد شوق اس سعادت کو قبول کیا اور مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔گھر پہنچ کر اس صحابی نے اپنی بیوی سے کہا یہ رسول اکرم صلی لی کام کے مہمان ہیں ان کا اکرام کرو۔بیوی نے کہا میرے پاس تو صرف بچوں کا کھانا ہے انہوں نے کہا بچوں کو بہلا کر سلا دو اور جب مہمان کے سامنے کھانا رکھنے کا وقت آیا تو ان کی بیوی نے چراغ کو ٹھیک کرنے کے بہانے سے اس کو بجھا دیا۔اب مہمان اندھیرے میں کھانا کھانے لگا جبکہ دونوں میاں بیوی مچا کے مار کے یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ کھانا کھا رہے ہیں اور مہمان نے سیر ہو کر کھانا کھالیا۔جب وہ صحابی صبح حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا رات کا اند از اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوا۔( بخاری کتاب المناقب باب قول الله و يؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة۔۔۔3798)