365 دن (حصہ سوم) — Page 97
97 درس حدیث نمبر 81 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ الله كَانَ يَدْعُوا فِي الصَّلوة اللهمَّ إِنِّي اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مَا أَكْثَرُ مَا تَسْتَعِيذُ يَارَسُوْلَ اللهِ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ قَالَ: اِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرَمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ (بخاری کتاب الاستقراض واداء الديون باب من استعاذ من الدين 2397) حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی للی ایک بہت دفعہ نماز میں یہ دعا کرتے کہ اے اللہ میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔کسی نے پوچھا حضور آپ کثرت سے یہ دعا کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں انسان پر جب قرض کا بوجھ ہوتا ہے تو وہ بات میں جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔اس حدیث میں ہمارے نبی صلی الی یکم نے معاشرہ کی ایک تکلیف دہ بیماری کا ذکر فرمایا ہے جس سے حضور صلی اللی کام اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔بے شک قرض لینے کی اجازت ہے اور حقیقی ضرورت کے وقت معاشرہ کے نیک لوگ قرض لیتے بھی ہیں، دیتے بھی ہیں اور بروقت اس کی ادائیگی کا انتظام بھی کرتے ہیں مگر جو لوگ حقیقی ضرورت کے بغیر صرف کسی لگژری کی خاطر قرض لیتے ہیں یا واپسی کے لئے وہ فکر نہیں کرتے جو ان کا اخلاقی فرض ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ واپسی کے وقت ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ، غلط بیانی سے بھی باز نہیں آتے ، وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ہمارے نبی حضور صلی یم نے جہاں ہر طرح کی نیکی کے بارہ میں جامع سبق دیئے ہیں الله اور ہر طرح کی برائی سے بچنے کی راہنمائی فرمائی ہے وہاں قرض کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کے نتیجہ میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کی طرف بھی مؤثر رنگ میں توجہ دلائی ہے۔