365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 87 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 87

درس القرآن 87 س القرآن نمبر 226 لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاء مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ (آل عمران : 29) اسلام اور عیسائیت کی کش مکش کے بیان میں یہ آیت ایک بہت ہی بنیادی بات پر مشتمل ہے جس پر عمل نہ کرنے کے اثرات آج عالم اسلام بڑی تکلیف سے محسوس کر رہا ہے اور وہ تعلقات اور دوستیاں ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف عیسائی دنیا مسلمان حکومتی لیڈروں نے لگائیں اور اب اس سے سخت نقصان اٹھا رہے ہیں۔قرآن شریف نے ایک طرف تو سورۃ الممتحنۃ میں واضح طور پر فرما یا لَا يَنْكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ کہ اللہ تمہیں ان سے نہیں منع کرتا جنہوں نے تم پر دین کی وجہ سے حملے نہیں کئے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان سے اعلیٰ درجہ کا نیک سلوک کرو اور ان سے انصاف کا سلوک کرو۔دوسری طرف یہ آیت ہے جس میں فرمایا ہے لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ کہ مومن ان دوسرے مومنوں کو چھوڑ کر اور دوسرے مسلمانوں کے خلاف کفار کو دوست نہ بنائیں وَمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ اور جو ایسا کرے فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ اس کا اللہ سے کچھ تعلق نہیں اِلَّا اَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقبةً سوائے اس کے کہ تم ان سے پورے محتاط رہو دو وَيُحَدِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَہ اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے خبر دار کرتا ہے وَإِلَى اللهِ الْمَصِيرُ اور اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔افسوس کہ ظاہری مذہبی شدت پسند مولویوں نے پہلی آیت کی نافرمانی کی اور ہر غیر مسلم سے تعلقات کو کفر قرار دیا اور مسلمان سیاسی لیڈروں نے دوسری آیت کی نافرمانی کی اور مناسب تعلقات کی حدود سے نکل کر غیر مسلم حکومتوں سے مالی امداد قبول کی اور عالم اسلام کو ایک خطر ناک پھندے میں پھنسا دیا۔