365 دن (حصہ سوم) — Page 3
درس القرآن 3 س القرآن نمبر 156 كتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهُ تَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى اَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَ هُوَ شَرٌّ تَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ 9191 (البقرة:217) حقوق انسانی کی ادائیگی کے سلسلہ میں ایک بہت بڑا مسئلہ دشمن سے لڑائی کا ہے۔ایک طرف قرآن مجید انسانی ہمدردی کا حکم دیتا ہے۔دوسری طرف لڑائی فرض کرتا ہے ، فرماتا ہے كتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ کہ لڑائی تم پر لکھ دی گئی ہے۔مگر وضاحت فرمائی ہے کہ یہ تمہارے کسی جارحانہ عزائم ، کسی لوٹ مار کی خواہش کے نتیجہ میں نہیں وَهُوَ كُزَةٌ تَكُمْ تمہاری صلح پسند طبیعت اور تمہاری نرم دلی کی وجہ سے تمہیں لڑائی نا پسند ہے۔مگر فرماتا ہے کسی چیز کی اچھائی برائی کا فیصلہ تمہاری پسند نا پسند پر نہیں، اس کی ذاتی فوائد وبرکات پر ہے وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا ہو سکتا ہے کہ تم ایک بات کو ناپسند کرو وَ هُوَ خَیرُ لکھ لیکن اپنے فوائد و برکات اور اخلاقی معیاروں کے لحاظ سے وہ تمہارے لئے مفید اور بابرکت ہو اور وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَ هُوَ شَرٌّ لکم اور بعید نہیں کہ تم ایک ایک چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ حقیقتا تمہارے لئے مضر ہو، ان باتوں کا تعلق تو علم غیب سے ہے وَاللهُ يَعْلَم اور اللہ علم رکھتا ہے وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اور تم علم نہیں رکھتے۔مسلمانوں کی اس ضلع کن طبیعت اور امن سے پیار کرنے پر ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا، فرماتا ہے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِيهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرُ کہ صحابہ کی امن اور صلح کے ساتھ پیار کو دیکھ کر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل فرماتے ہیں:۔شریر لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ تو صبر کرتے ہیں اس لئے انہوں نے شہر حرم میں بھی ان کو چھیڑ نا شروع کیا۔اس پر صحابہ نے سوال کیا کہ ہمیں شہر حرم میں لڑائی کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ یہ بڑے گناہ کی بات ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ 354 مطبوعہ ربوہ) لیکن ساتھ ہی قرآن شریف نے یہ وضاحت فرما دی ہے کہ تم اگر مجبوراً شہر حرام میں جنگ کرو تو جو جرم تمہارے مخالفین کر رہے ہیں وہ تو اس سے بہت بڑا ہے۔وہ کیا ہے صَةٌ عَن سَبیلِ اللہ خدا کے راستہ سے رو کناؤ کفر ہے اور خدا کا انکار کرنا وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اور عزت والی ـهر بہ مسجد کا انکار کرنا وَ اخْرَاجُ اَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ اور اس کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینا اللہ کے نزدیک بہت ہی بڑا جرم ہے۔(البقرة : 218) بقیه آیت کا ترجمہ آئندہ انشاء الله)