365 دن (حصہ سوم) — Page 53
درس القرآن 53 القرآن نمبر 199 لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمْ (البقرة:274) الْجَاهِلُ اَغْنِيَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ مالی قربانیوں کا ایک اہم پہلو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ جس معاشرہ میں مالی قربانی اور خدمت کا رواج ہو وہاں یہ خطرہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک تو غیر مستحق لوگ بے ضرورت اس نظام سے فائدہ نہ اٹھانے لگ جائیں اور حقیقی مستحق محروم نہ رہ جائیں، فرماتا ہے لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ کہ یہ مذکورہ بالا صدقات ان ضرورت مندوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں دوسرے کاموں سے روکے گئے ہیں لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ وه ملک میں آزادی سے آجا نہیں سکتے يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ایک بے خبر شخص ان کے سوال سے بچنے کی وجہ سے انہیں غنی خیال کرتا ہے تَعرِفُهُم بِسِيهُمْ تم ان کی ہلیت سے ان کو پہچان سکتے ہو لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ اور تم جو اچھا مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔اس دوسری آیت میں مالی قربانی کے اس پہلو کو پورا کیا جارہا ہے اور اس کے بعد نیا پہلو شروع کیا جارہا ہے، فرماتا ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ( البقرة:275) وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی، چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔اس آیت پر مالی قربانی اور صدقات کے مضمون کے بعد سُود کی ممانعت کا مضمون شروع ہوتا ہے۔