365 دن (حصہ سوم) — Page 21
درس القرآن 21 القرآن نمبر 169 الطَّلَاقُ مَرَّتن فَإِمْسَاكَ بِمَعْرُوفِ اَوْ تَسْرِيحَ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُ وَامِمَّا أتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَ اَلَا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُ وَهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُ وَدَ اللَّهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (البقرة :230) نکاح، شادی اور طلاق ذمہ واری کے افعال ہیں اور بچوں کی، فریقین کی ، معاشرہ کی زندگی پر ان افعال کا گہرا اثر پڑتا ہے۔اسلام نے طلاق کی اجازت بھی دی ہے مگر یہ راستہ بھی کھلا رکھا ہے کہ وقتی جذبات کے جوش میں اگر طلاق دی گئی ہے تو اس کا سد باب کیا جاسکے۔اس لئے دودفعہ طلاق کے بعد پھر تیسری دفعہ رجوع کی ممانعت کر دی ہے، فرماتا ہے الطَّلَاقُ مَرَّتن که طلاق دو مرتبہ ہے فَامُسَاكَ بِمَعْرُوفِ اس کے بعد یا تو معروف طریق پر روک رکھنا ہے او تسریح بِاِحْسَان لیکن اگر اس کے بعد طلاق دے تو پھر نیک سلوک کے ساتھ رخصت کرنا ہے یعنی تیسری طلاق کے بعد رجوع کی اجازت نہیں ہے۔طلاق کا ایک اور گھٹیا محرک یہ ہو سکتا تھا کہ جو مال بیوی کو دیا ہوا ہے وہ واپس مل جائے گا اس بارہ میں فرما یا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا أَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا کہ تمہارے لئے جائز نہیں ہو گا کہ جو مال تم نے ان کو دیا ہوا ہے کچھ بھی ان سے واپس لو۔ہاں مگر اس کی ایک صورت و سکتی ہے اِلَّا اَنْ تَخَافَ اَلَا يُقِیمَا حُدُودَ اللهِ سوائے اس کے کہ وہ دونوں خائف ہوں کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَا يُقِيْمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ به پھر اگر تم خوف محسوس کرو یعنی نظام اسلامی کو یہ احساس ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں جو وہ عورت بطور فدیہ چھوڑ دے تِلْكَ حُدُودُ الله یہ اللہ کی حدود ہیں فَلَا تَعْتَدُوهَا پس ان سے تجاوز نہ کرو وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ اور جو کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرے پس یہی لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔ہو