365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 189 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 189

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 113 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔189 ނ ” اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گر بیان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی۔جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل۔معاف کر دی۔پس تم نے جواب تو بہ کی ہے چاہیئے کہ تم اس تو بہ کی حقیقت سے واقف ہو کر ان تمام گناہوں سے بچو جن میں تم مبتلا تھے اور جن سے بچنے کا تم نے اقرار کیا ہے ہر ایک گناہ خواہ وہ زبان کا ہو یا آنکھ یا کان کا غرض ہر اعضاء کے جد اجد ا گناہ ہیں ان سے بچتے رہو کیو نکہ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے گناہ کی زہر وقتا فوقتا جمع ہوتی رہتی ہے اور آخر اس مقدار اور حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان ہلاک ہو جاتا ہے پس بیعت کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ گناہ کے زہر کے لیے تریاق ہے۔اس کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے اور گناہوں پر ایک خط سیخ پھیر دیتی ہے۔دوسرا فائدہ اس توبہ سے یہ ہے کہ اس توبہ میں ایک قوت واستحکام ہو تا ہے جو مامور من اللہ کے ہاتھ پر سچے دل سے کی جاتی ہے۔انسان جب خود تو بہ کرتا ہے تو وہ اکثر ٹوٹ جاتی ہے بار بار توبہ کرتا اور بار بار توڑتا ہے مگر مامور من اللہ کے ہاتھ پر جو تو بہ کی جاتی ہے جب وہ سچے دل سے کرے گا تو چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہو گی وہ خداخو دا سے قوت دے گا اور آسمان سے ایک طاقت ایسی دی جاوے گی جس سے وہ اس پر قائم رہ سکے گا اپنی تو بہ اور مامور کے ہاتھ پر تو بہ کرنے میں یہی فرق ہے کہ پہلی کمزور ہوتی ہے دوسری مستحکم۔کیونکہ اس کے ساتھ مامور کی اپنی توجہ ، کشش اور دُعائیں ہوتی ہیں جو تو بہ کرنے والے کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں اور آسمانی قوت اُسے پہنچاتی ہیں جس سے ایک پاک تبدیلی اس کے اندر شروع ہو جاتی ہے اور نیکی کا بیج بویا جاتا ہے جو آخر ایک بار دار درخت بن جاتا ہے پس اگر صبر اور استقامت رکھو گے تو تھوڑے دنوں کے بعد دیکھو گے کہ تم پہلی حالت سے بہت آگے گزر گئے ہو۔غرض اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے دوسرے مامور