365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 165 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 165

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 98 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔165 واضح ہو کہ قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کے رو سے بھی اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ۔جیسا کہ کلمہ لا إلهَ إِلَّا الله جوہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ اله۔ولاہ سے مشتق ہے۔اور اس کے معنے ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔یہ کلمہ نہ توریت نے سکھلایا اور نہ انجیل نے صرف قرآن نے سکھلایا اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔یہی کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں میں بلند آواز سے کہا جاتا ہے جس سے عیسائی اور ہند و سب چڑتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرنا ان کے نزدیک گناہ ہے۔یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی مؤذن بلند آواز سے کہتا ہے کہ اَشْهَدُ أن لا إلهَ إِلَّا الله یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اور محبوب اور معبود بجز اللہ کے نہیں۔پھر دو پہر کے بعد یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔پھر عصر کو بھی یہی آواز پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے ؟!! پھر بعد اس کے لفظ اسلام کا مفہوم بھی محبت پر ہی دلالت کرتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے آگے اپنا سر رکھ دینا اور صدق دل سے قربان ہونے کے لئے طیار ہو جانا جو اسلام کا مفہوم ہے یہ وہ عملی حالت ہے جو محبت کے سر چشمہ سے نکلتی ہے۔اسلام کے لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے صرف قولی طور پر محبت کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر بھی محبت اور جان فشانی کا طریق سکھایا ہے۔دنیا میں اور کونسا دین ہے جس کے بانی نے اس کا نام اسلام رکھا ہے ؟ اسلام نہایت پیارا لفظ ہے اور صدق اور اخلاص اور محبت کے معنے کوٹ کوٹ کر اس میں بھرے ہوئے ہیں۔پس مبارک وہ مذہب جس کا نام اسلام ہے۔ایسا ہی خدا کی محبت کے بارے