365 دن (حصہ سوم) — Page 104
104 درس حدیث نمبر 87 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللی کرم نے فرمایا: لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ (بخاری کتاب الصوم باب السواك الرطب واليابس للصائم 1934) کہ اگر میں اپنی امت کو مشقت میں نہ ڈال دیتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ ہر وضوء کے ساتھ مسواک کیا کریں۔ہمارے نبی صلی الکریم نے جتنا زور جسم اور لباس اور دانتوں اور پھر گھر بار کی صفائی پر دیا ہے اتنازور کسی نبی نے نہیں دیا۔نہ کسی مذہبی کتاب میں صفائی کے لئے اتنی تاکید کی گئی ہے اور حضور صلی الی کام کی یہ تعلیم صدیوں تک مسلمانوں پر اثر انداز رہی۔امریکہ کے ایک سکالر پروفیسر سلیمان نیانگ نے ایک دفعہ افریقن آرٹ میوزیم میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تبلیغ کے طور پر تو اسلام کا تعارف امریکہ میں 20 کی دہائی میں ڈاکٹر مفتی محمد صادق نے کیا۔مگر ڈاکٹر سلیمان نیانگ نے مجھے بتایا کہ اسلام امریکہ میں پہلے متعارف ہو چکا تھا اور وہ اس طرح کہ جب امریکن عیسائی افریقہ سے لوگوں کو غلام بنا کر پکڑ کر لائے تو امریکہ کے لوگوں نے دیکھا کہ ان میں دو قسم کے افریقن بڑے نمایاں ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو گندے رہتے ہیں، کپڑے بھی گندے، نہانے دھونے کی بھی کوئی پرواہ نہیں مگر دوسرا ایک گروہ ہے جو پانچ دفعہ دن میں ہاتھ ، منہ ، بازو، پاؤں دھوتا ہے، صاف کرتا ہے اور یہ گروہ مسلمانوں کا تھا۔سپین سے جب مسلمانوں کا اخراج ہوا اور عیسائیوں نے مسلمان حکومت ختم کی تو بہت سے مسلمان قتل کے ڈر سے ظاہر اعیسائی ہو گئے اور عیسائی حکومت نے ان کے قتل عام کا حکم دیا تو کہا کہ کچھ لوگ مسلمانوں میں سے عیسائی ہو گئے ہیں ان کو پہچاننے کے لئے یہ علامت ہے کہ وہ نہاتے دھوتے اور صفائی کا اہتمام کرتے ہیں۔آج کے مسلمانوں کو بھی اس روایت کو قائم رکھنا چاہیئے۔