365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 78 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 78

درس القرآن 78 درس القرآن نمبر 218 شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَابِما بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (آل عمران:19) اسلام اور عیسائیت میں کش مکش کا پہلا اور سب سے بنیادی مسئلہ تو توحید اور تثلیث کا ہے عبادت کے لائق صرف باپ ہے یا بیٹا اور روح القدس بھی۔اس آیت میں فرماتا ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تین وجودوں کی گواہی ضروری ہے خود اللہ تعالیٰ کی گواہی، ملائکہ کی گواہی اور انصاف پر قائم اہل علم کی گواہی۔پہلی گواہی: اللہ تعالیٰ کی ہے جو دو طرح مل سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو کائنات تخلیق کی ہے وہ توحید پر گواہی دیتی ہے یا تین قابل عبادت وجودوں پر۔کائنات کو دیکھ کر فیصلہ کرلو۔دوسرا طریق اللہ تعالیٰ کی گواہی معلوم کرنے کا اس کے رسول اور انبیاء ہیں۔تم دیکھ لو کہ خدا کے رسولوں کی گواہی کس طرف ہے؟ فرمایا شَهِدَ اللہ اللہ گواہی دیتا ہے أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ کہ کوئی قابل عبادت نہیں مگر صرف وہی۔دوسرے: وجود ملائکہ ہیں جن کو مسلمان بھی مانتے ہیں اور عیسائی بھی اور دونوں ان کا تصرف نظام کائنات پر تسلیم کرتے ہیں، نظام کائنات کے کسی شعبہ کو دیکھ لو توحید نظر آئے گی، تثلیث کی جھلک بھی نہیں ملے گی وَالْمَليكة فرما یا فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں۔تیسرے: اہل علم ہیں مگر یہاں غلطی کا امکان ہے کیونکہ اہل علم انسان ہیں اور غلطی کر سکتے ہیں دانستہ بھی اور نا دانستہ بھی۔اب فرماتا ہے وَاُولُوا الْعِلْمِ قَابِما بِالْقِسْطِ کہ اگر اہل علم انصاف پر رہتے ہوئے گواہی دیں تو قابل عبادت ایک وجود کو ہی مانیں گے۔چنانچہ جو اہل علم توحید کے خلاف تثلیث کو مانتے ہیں وہ باقی تمام جگہ تین کو ایک اور ایک کو تین نہیں مانتے صرف الوہیت کے بارہ میں یہ بات کہتے ہیں۔گویا جہاں عقیدہ کا سوال نہیں ہو تا وہاں عام منصفانہ نظر ان کی تسلیم کرتی ہے کہ ایک ایک اور تین تین ہیں۔یعنی قابل عبادت وجود ایک سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔