365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 79 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 79

درس القرآن 79 درس القرآن نمبر 219 وروو إنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُم وَمَنْ يَكْفُرُ بِأَيْتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (آل عمران: 20) عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک دین عیسائیت ہے، مسلمان کہتے ہیں اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے، فرماتا ہے اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ اللہ کے نزدیک اصل دین یقینا کامل فرمانبر داری ہے اور یہ مضمون مسلمانوں کے دین میں بھی ہے اور اس کے نام میں بھی ہے اب دیکھو کامل فرمانبرداری کے مقام سے کون بہتا ہے۔وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُم خدا کے حکم کی نافرمانی یا اس سے اختلاف تم کر رہے ہو یا مسلمان۔فرماتا ہے اختلاف ان لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا اور یہ اختلاف بھی کیا از روئے سرکشی۔کیا پر انا عہد نامہ بار بار خدائے واحد کی عبادت کا حکم نہیں دیتا، کیا خود تمہاری انا جیل اور نئے عہد نامہ میں بار بار خدا کے واحد ہونے اور بیٹے کے اس کے تابع ہونے، اس سے چھوٹے ہونے، اس کی بات ماننے والا ہونے اور اس کے آگے گڑ گڑا کر دعا کرنے والا نہیں کہا گیا۔پھر تمہاری تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تبدیلی کسی غلط فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سراسر باہمی سرکشیوں کا نتیجہ ہے (عیسائیوں کی عقائد کے بارہ میں باہمی کش مکش کی ایک پوری داستان ہے جس سے کتابیں بھری پڑی ہیں) وَمَنْ يَكْفُرُ بِأَيْتِ اللهِ اور جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرے فَإِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ تو اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔اس فقرہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہر امر کا نتیجہ انسان کو ساتھ ساتھ ملتا جاتا ہے کیونکہ انسان جو کام بھی کرتا ہے اس کا اثر اس کے دل پر ضرور پڑتا ہے۔