365 دن (حصہ سوم) — Page 64
درس القرآن 64 القر آن رآن نمبر 208 لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلِينَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ (البقرة:287) الكفِرِينَ سورۃ البقرۃ میں تمام بنیادی عقائد و احکامات کے بیان کے بعد اور ان کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی تاکید کے بعد اس آخری آیت میں ایک بنیادی حقیقت کے بیان کے بعد ایک بنیادی دعا سکھائی گئی ہے جو گویا سورۃ البقرۃ کے تمام عقائد، احکامات ، اخلاقی ہدایات پر عمل کی توفیق ملنے کی درخواست اور ایمان و عمل میں کمزوری رہ جانے کے تدارک کے لئے غیر معمولی دعا ہے۔سورۃ البقرۃ کے عقائد کے اسباق، شرعی احکام، عائلی اور معاشرتی ہدایات، اخلاقی اور روحانی نصائح کے بعد یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ کیا ایک کمزور انسان یہ سب ذمہ داریاں اٹھا سکتا ہے؟ فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تعالیٰ ہر نفس پر اس کی وسعت کے مطابق ذمہ داری ڈالتا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وہ نفس جو ارادہ اچھے کام کرے وہ اس کے کام آئیں گے وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ اور جو غلط کمائی اس نے کی اس کی ذمہ داری بھی اس کے ذمہ ہو گی۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلُ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا یعنی اے ہمارے خدا نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں مت پکڑ جن کو ہم بھول گئے اور بوجہ نسیان ادانہ کر سکے اور نہ ہی ان بد کاموں کا ہم سے مواخذہ کر جن کا ارتکاب ہم نے عمد انہیں کیا بلکہ سمجھ کی غلطی واقع ہو گئی اور ہم سے وہ بوجھ مت اٹھوا جس کو ہم اٹھا نہیں سکتے اور ہمیں معاف کر اور ہمارے گناہ بخش اور ہم پر رحم فرما۔اَنتَ مولینا تو ہمارا مالک، ہمارا رب ہمارا مددگار ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔”فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ یعنی اے خدا ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما ہم بے بس اور کمزور ہیں لیکن ہمارا دشمن طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ ہے۔پس اے ہمارے رب جو لوگ ایسے کام کر رہے ہیں جن سے اسلام کی ترقی میں روک واقع ہوتی ہے ان پر تو ہمیں غالب کر اور ایسے سامان پیدا فرما جو تیری تبلیغ اور تیرے نام کو دنیا میں پھیلانے کا باعث ہوں۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 660 مطبوعہ ربوہ)