365 دن (حصہ سوم) — Page 58
درس القرآن 58 درس القرآن نمبر 203 وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ وَاَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم تَعْلَمُونَ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللهِ ثُمَ تُوَقُ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (البقرة:281،282) ربو جیسے ظالمانہ طریق کی ممانعت کرتے ہوئے یہ مضمون ان دو آیات پر ختم ہو رہا ہے کہ اگرچہ سود کے بجائے قرض دینا جائز ہے مگر اس میں تمہیں تاکید کی جاتی ہے کہ جس کے ذمہ قرض کی ادائیگی ہے اگر وہ تنگ دست ہے تو اسے آسائش تک مہلت دینی چاہیئے۔فرماتا ہے وَ اِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إلى مَيْسَرَةٍ بلکہ اس حد تک فرمایا وَ اَنْ تَصَدَّ قُوا خَيْرٌ لَكُمْ کہ اگر تم قرض واپس لینے کے بجائے کسی تنگدست کو خیرات کر دو اور قرض واپس نہ لو تو وہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے ان كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔وَاتَّقُوا يَوْمًا اور اس دن سے ڈرو تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللہ جس دن تمہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا ثُمَّ تُوقُ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ پھر ہر ایک شخص کو جو اس نے کیا ہو گا وہ پورا پورا دیا جائے گا وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔حضرت مصلح موعودؓ ان دو آیات کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔فرماتا ہے آج اگر تم لوگوں سے حسن سلوک کرو گے اور اپنے قرضوں کی وصولی میں نرمی سے کام لو گے تو یاد رکھو ایک دن تمہارا بھی حساب ہو گا اس دن تم سے بھی اچھا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے گناہوں سے در گزر کیا جائے گا۔لیکن اگر آج تم نیک سلوک نہیں کرو گے تو اس دن تم سے بھی کوئی نیک سلوک نہیں کیا جائے گا۔یہ وہی حکم ہے جس کی طرف رسول کریم صلی العلیم نے بار بار توجہ دلائی ہے اور فرمایا کہ تم دنیا میں رحم سے کام لو تا کہ آسمان پر تمہارا خدا بھی تم سے رحم کا سلوک کرے۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 641 مطبوعہ ربوہ)