365 دن (حصہ سوم) — Page 59
درس القرآن 59 درس القرآن نمبر 204 اجتماعی اور انفرادی تزکیہ کے لئے مالی معاملات کے جھگڑے دشمن نمبر ایک کی حیثیت رکھتے ہیں اگلی دو آیات میں ان جھگڑوں سے بچنے کے لئے دو بنیادی ہدایات دی گئی ہیں ایک تحریری گواہی کا نظام، دوسرے رہن کا نظام۔ان دونوں کو اختیار کرنے کے ذریعہ سے معاشرہ بہت سے جھگڑوں سے پاک ہو سکتا ہے ، فرماتا ہے۔يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مسَمًّى فَاكْتُبُوہ کہ جب تم کسی دوسرے سے کسی مقررہ میعاد کے لئے قرض لو تو اسے لکھ لو وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِب بِالْعَدْلِ اور چاہیئے کہ لکھنے والا تمہارے درمیان طے شدہ معاملہ کو انصاف کے ساتھ لکھ دے وَلَا يَأْبَ كَاتِبُ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللهُ فَلْيَكْتُب اور کوئی کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے کیونکہ اللہ نے اسے لکھنا سکھایا ہے پس چاہیے کہ وہ ضرور اس لکھے وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ اور تحریر وہ لکھوائے جس کے ذمہ حق ہو وَ لْيَتَّقِ اللهَ رَبَّہ اور چاہیئے کہ وہ کو وہ لکھواتے وقت اللہ کا جو اس کا رب ہے تقویٰ مد نظر رکھے وَلَا يَبْخَسُ مِنْهُ شَيْئًا اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے فَإِنْ كَانَ الَّذِى عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهَا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يمل هو اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے نادان ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ تو اس کا کارپرداز انصاف کے ساتھ لکھوائے وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُم اور تم اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ مقرر کر لیا کرو فَانْ لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَاتنِ ہاں اگر دو گواہ مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ ان لوگوں میں سے جن کو تم گواہ کے طور پر پسند کرتے ہو ان تضل احل بهُمَا فَتُذَكرَ احلبُهُمَا الأخْرى کہ اگر ان عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دونوں میں سے ایک دوسری کو یاد دلائے وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں وَلا تَسْتَمُوا أَن تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى آجَلِیہ اور خواہ چھوٹا لین دین ہو یا بڑا تم اسے اس کی میعاد سمیت لکھنے میں سستی نہ کرو۔