365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 38 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 38

درس القرآن القرآن نمبر 184 38 يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ لَا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَةٌ وَلَا شَفَاعَةُ وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ (البقرة: 255) تزکیہ نفس اور قومی تزکیہ یعنی نشود نما اور ترقی کے لئے مالی قربانی انتہائی ضروری ہے چنانچہ فرماتا ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو انْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَكُمْ جو کچھ ہم نے مال و دولت، علم و فہم، عقل، جسمانی ہمت غرض جو کچھ ہم نے تم کو عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرو مِن قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوم قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں لا بَيْعَ فِیهِ نہ کوئی تجارت کام آئے گی وَلَا خُلةُ اور نہ کوئی دوستی وَلَا شَفَاعَةُ اور نہ کوئی شفاعت کام دے گی درووو ردو دو وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ اور صداقت اور سچے دین کا انکار کرنے والے ہی ظالم ہیں۔الہی جماعتوں کے تزکیہ کے لئے خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کا علم اور اس کی توحید اور صفات کی جو تجلیات اس کائنات میں نظر آرہی ہیں کا مشاہدہ اور علم اور احساس انتہائی ضروری ہے اور یہ مضمون نہایت خوبصورتی اور گہرائی کے ساتھ اس آیت میں بیان ہے جو آیت الکرسی کے نام سے معروف ہے، فرماتا ہے اللهُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ اللہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں الْحَيُّ الْقَيُّومُ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ اسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِہ کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے اور ان کے پیچھے ہے وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمة إِلَّا بِمَا شَاء اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ اس کی حکومت اور علم تمام آسمانوں اور زمین پر پھیلا ہوا ہے وَلا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظیم اور وہ بہت بلند شان اور بڑی عظمت والا ہے۔(البقرة:256) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کی نہایت لطیف تفسیر فرمائی ہے جس میں ہستی باری تعالیٰ اور توحید باری تعالیٰ کا لطیف استنباط ہے اللہ ہمیں وہ پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔69991 دو