365 دن (حصہ سوم) — Page 36
درس القرآن 36 درس القرآن نمبر 183 تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيْتِ وَ اَيَّدُ نَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيْنَتُ وَلكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ أَمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ وَ لَوْ شَاءَ اللهُ مَا اقْتَتَلُوا وَ لَكِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (البقرة:254) جماعت احمدیہ کے بزرگوں نے جو تفسیر بیان کی ہے اس کا ایک بہت لطیف پہلو قرآن شریف کی آیات اور مضامین کا ربط ہے جس کی ایک مثال کا ذکر سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں ذکر ہوتا ہے کہ اس سورۃ کے چار مضامین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہمارے نبی صلی ا یکم کی بعثت کے بارہ میں دعا کے چار پہلوؤں سے تعلق ہے یعنی تلاوت آیات۔کتاب اور اس کی حکمت اور تزکیہ۔یہ حصہ جس کا درس جاری ہے تزکیہ سے تعلق رکھتا ہے ایک اور جوڑ جو اس سورۃ کے مضامین میں ہے وہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیم اور عقائد کا تقابل ان دو مذاہب کی بگڑی ہوئی تعلیم سے کیا گیا ہے جن کا عالمی سطح پر اسلام سے مقابلہ تھا یعنی یہودیت اور پھر عیسائیت۔(عیسائیت کا زیادہ تفصیلی ذکر اگلی سورۃ آل عمران میں ہے) آج کی آیت میں یہ جوڑ اس طرح بھی ہے کہ رسولوں میں فضیلت کا فرق ہے ، فرماتا ہے تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ یہ رسول جو دنیا میں آئے جن کا آنا الہی جماعتوں کے تزکیہ، پاکیزگی اور نشوو نما کے لئے ضروری تھا برابر درجہ نہیں رکھتے۔بعض کو بعض پر فضیلت ہے ان تین مذاہب (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) جن کا عالمی سطح پر مقابلہ ہے کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے كَلم اللہ اللہ نے خوب کلام کیا اس لئے وہ کلیم کے لقب سے معروف ہیں۔ان کے مذہب کا اسلام سے مقابلہ کی بنیادی باتیں پہلے ذکر ہو چکی ہیں پھر ہمارے نبی صلی علی ظلم کا ذکر مبارک رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتٍ میں ہے جس میں یہ اشارہ ہے جو آنحضرت صلی کم کار فع سب نبیوں کے رفع سے بلند تر ہے اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کا ذکر ہے جو غیر تشریعی نبی تھے فرمایا وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيْنتِ وَاَيَّدتهُ بِرُوحِ الْقُدُس کہ ہم نے عیسی ابن مریم کو روشن نشانات دیئے اور روح