365 دن (حصہ سوم) — Page 33
درس القرآن 33 درس القرآن نمبر 180 سورۃ البقرۃ کے آخر تک تزکیہ نفس اور جماعتی ترقی اور نشو و نما کا مضمون چل رہا ہے۔گزشتہ درس میں ذکر تھا کہ تزکیہ و ترقی کے لئے قیادت کی کیا شرائط ہیں؟ آج کی آیت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ قیادت ، الہی تائیدات صرف تقرری کے وقت نہیں بلکہ بعد میں بھی چلتی چلی جاتی ہیں، فرماتا ہے۔وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُنكَةٍ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ ممَّا تَرَكَ ال مُوسى وَال هَرُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَبِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً تَكُمْ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ (البقرة:249) کہ ان کے نبی نے ان کو کہا کہ ان کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینت ہوگی اور اس چیز کا بقیہ ہو گا جو موسیٰ کی آل اور ہارون کی آل نے اپنے پیچھے چھوڑا۔اس صندوق یا تابوت سے وہ دل مراد ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر تسکین ڈالی گئی اور بعض مفسرین ایک ظاہری صندوق کا ذکر بھی کرتے ہیں جس میں تبرکات تھے اور وہ واقعی طور پر دشمن کے قبضہ میں چلا گیا مگر غیر معمولی طور پر بنی اسرائیل کو واپس مل گیا۔آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً تَكُمْ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ كه گویا اس آیت میں خدا کی طرف سے جو خلافت راشدہ کی علامت بتائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا تقرر ہوتا ہے، اس کو وسعت علمی دی جاتی ہے، اس کو کام کرنے کی صلاحیت اور استعداد عطا ہوتی ہے اور تقرری کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی تائیدات اس کو حاصل رہتی ہیں۔ان سب باتوں میں اگر تم سچے مومن ہو تو تمہارے لئے ایک زبر دست نشان ہے۔آئندہ آیات میں اس غیر معمولی کامیابی کا تذکرہ ہے جو الہی تقرری میں ہوئی اور کئی سو سال تک اس کے اثرات چلے۔