365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 28 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 28

درس القرآن 28 درس القرآن نمبر 175 عائلی مشکلات و مسائل کے بارہ میں سورۃ البقرۃ کا یہ مضمون اب دو بنیادی ہدایات پر پورا ہو رہا ہے دونوں کا منشاء یہ ہے کہ خاوند بیوی کی علیحدگی خواہ خاوند کی وفات کی وجہ سے ہوئی ہو یا طلاق کی وجہ سے ہوئی ہو باہمی تلخی اور بدمزگی پر منتج نہیں ہونی چاہیے بلکہ بیوہ اور مطلقہ کو مناسب طریق پر سہولت اور آرام پہنچانا چاہیئے۔فرماتا ہے وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُم کہ تم میں سے جو لوگ وفات دیئے جائیں وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا اور بیویاں پیچھے چھوڑ رہے ہوں وَصِيَّةٌ لِازْوَاجِهِمُ ان کی بیویوں کے حق میں یہ وصیت ہے متاعا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اخراج کہ وہ ایک سال تک فائدہ اٹھائیں اور نکالی نہ جائیں فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي انْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اس بارہ میں جو وہ خود اپنے متعلق کوئی معروف فیصلہ کریں واللہ عَزِيزٌ حَكِيم اور اللہ کامل غلبہ والا اور صاحب حکمت ہے۔(البقرة : 242) (البقرة:241) وَلِلْمُطَلَّقَتِ مَتَاعُ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ اور مطلقہ عورتوں کو نیک دستور کے مطابق فائدہ پہنچانا ہے یہ متقیوں پر فرض ہے۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُم الله اس آیت کے ذریعہ سورۃ البقرۃ کے تیسرے مضمون يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ اور اس مضمون کے اس حصہ پر جس کا تعلق بندوں کے حقوق خصوصاً عائلی حقوق سے ہے چوٹی پر پہنچا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خوب کھول کر یہ آیات تمہارے لئے بیان کی ہیں لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ان میں کوئی نادانی کی بات نہیں، کوئی عقل و حکمت کے خلاف تعلیم نہیں، سراسر تمہارے لئے عقل و حکمت کا سبق ہے۔(البقرۃ:243) ވ