365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 196 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 196

درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 117 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔196 ”اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان نہ تو واقعی طور پر گناہ سے نجات پاسکتا ہے اور نہ سچے طور پر خدا سے محبت کر سکتا ہے اور نہ جیسا کہ حق ہے اس سے ڈر سکتا ہے جب تک کہ اُسی کے فضل اور کرم سے اُس کی معرفت حاصل نہ ہو اور اس سے طاقت نہ ملے اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے کہ ہر ایک خوف اور محبت معرفت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔دنیا کی تمام چیزیں جن سے انسان دل لگاتا ہے اور اُن سے محبت کرتا ہے یا اُن سے ڈرتا ہے اور دُور بھاگتا ہے۔یہ سب حالات انسان کے دل کے اندر معرفت کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ہاں یہ سچ ہے کہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔اور نہ مفید ہو سکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور فضل کے ذریعہ سے معرفت آتی ہے۔تب معرفت کے ذریعہ سے حق بینی اور حق جوئی کا ایک دروازہ کھلتا ہے اور پھر بار بار دور فضل سے ہی وہ دروازہ کھلا رہتا ہے اور بند نہیں ہو تا۔غرض معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے۔فضل معرفت کو نہایت مصفی اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو در میان سے اُٹھا دیتا ہے اور نفس امارہ کے لئے گردو غبار کو دور کر دیتا ہے اور رُوح کو قوت اور زندگی بخشتا ہے اور نفس انارہ کو امارگی کے زندان سے نکالتا ہے اور بد خواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے۔تب انسان میں ایک تبدیلی پید اہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعا بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے رُوح میں پیدا ہوتی ہے وہ دعا ہے۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی حجاب لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222،221) پرده، روک زندان جیل، قید خانہ