365 دن (حصہ سوم) — Page 15
درس القرآن القرآن نمبر 165 15 لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِى اَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ (البقرة : 226) فرماتا ہے، اللہ تمہاری لغو قسموں پر تمہارا مؤاخذہ نہیں کرے گا لیکن اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا جو تمہارے دل گناہ کماتے ہیں اور اللہ بہت بخشنے والا اور بردبار ہے۔جیسا کہ مضمون سے ظاہر ہے عائلی تعلقات میں جو لوگ وقتی اشتعال میں قسمیں کھاتے ہیں، جو نیکی اور تقویٰ اور معاشرتی اصلاح کے کاموں میں حائل ہوں ان سے منع کیا گیا ہے۔اس آیت میں اس بارہ میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغو قسموں پر گرفت نہیں کرے گا۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔”فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تم سے کوئی مؤاخذہ نہیں کرے گا۔اسجگہ لغو قسموں سے تین قسم کی قسمیں مراد ہیں۔اول عادت کے طور پر قسمیں کھانا۔یعنی ہر وقت والله ، بالله ، ثُمَّ تَاللہ کہتے رہنا۔دوم ایسی قسم جس کا کھانے والا یقین رکھتا ہو کہ وہ درست ہے لیکن اس کا یقین غلط ہو سوم ایسی قسم جو شدید غصہ کے وقت کھائی جائے۔جب ہوش و حواس ٹھکانے نہ ہوں یا حرام شے کے استعمال یا فرض و واجب عمل کے ترک کے متعلق کسی وقتی جوش کے ماتحت قسمیں کھا لینا۔یہ سب قسمیں لغو ہیں اور ان کے توڑنے پر کوئی کفارہ نہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ چونکہ مؤاخذہ نہیں ہو گا اس لئے اب کسی احتیاط کی بھی ضرورت نہیں بیشک رات دن لغو قسمیں کھاتے رہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے متعلق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المؤمنون :4) ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 507 مطبوعہ ربوہ) پھر حضرت مصلح موعود يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُم کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان خیالات پر پکڑے گا جو ارادہ اور فکر کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں نہ ان پر جو اچانک پید ا ہو جاتے ہیں۔اور تم ان کو فوراً اپنے دل سے نکال دیتے ہو۔واللهُ غَفُورٌ