365 دن (حصہ سوم) — Page 185
درس روحانی خزائن درس روحانی خزائن نمبر 110 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔185 سچا مذ ہب انسانی قوی کا مربی ہوتا ہے: ایسا ہی جو لوگ انتقام، غضب یا نکاح کو ہر حال میں برا مانتے ہیں ،وہ بھی صحیفہ قدرت کے مخالف ہیں اور قویٰ انسانی کا مقابلہ کرتے ہیں۔سچا مذہب وہی ہے جو انسانی قوی کا مربی ہو ، نہ کہ ان کا استیصال کرے۔رجولیت یا غضب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فطرت انسانی میں رکھے گئے ہیں۔ان کو چھوڑ نا خدا کا مقابلہ کرنا ہے۔جیسے تارک الدنیا ہونا یا راہب بن جانا۔یہ تمام امور حق العباد کو تلف کرنے والے ہیں۔اگر یہ امر ایسا ہی ہوتا تو گویا اس خدا پر اعتراض ہے جس نے یہ قومی ہم میں پیدا کئے۔پس ایسی تعلیمات جو انجیل میں ہیں اور جن سے قویٰ کا استیصال لازم آتا ہے، ضلالت تک پہنچاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو اس کی تعدیل کا حکم دیتا ہے۔ضائع کرنا پسند نہیں کرتا۔جیسے فرمایا إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (النحل: 91) عدل ایک ایسی چیز ہے، جس سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔حضرت مسیح کا یہ تعلیم دینا کہ اگر تو بری آنکھ سے دیکھے ، تو آنکھ نکال ڈال اس میں بھی قوی کا استیصال ہے، کیونکہ ایسی تعلیم نہ دی کہ تو غیر محرم عورت کو ہر گز نہ دیکھ ، مگر بر خلاف اس کے اجازت دی کہ دیکھ تو ضرور ، لیکن زنا کی آنکھ سے نہ دیکھ۔دیکھنے سے تو ممانعت ہے ہی نہیں۔دیکھے گا تو ضرور ، بعد دیکھنے کے دیکھنا چاہیے کہ اس کے قویٰ پر کیا اثر ہو گا۔کیوں نہ قرآن شریف کی طرح آنکھ کو ٹھو کر والی چیز ہی کے دیکھنے سے روکا۔اور آنکھ جیسی مفید اور قیمتی چیز کو ضائع کر دینے کا افسوس لگایا۔“ مشکل الفاظ اور ان کے معانی استیصال تباہ کرنا، قلع قمع کرنا ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 21، 22 مطبوعہ ربوہ) رجولیت تلف ختم کرنا، تباہ کرنا تارک الدنیا ہونا راہب بن جانا تارک الدنیا ہو جانا تعدیل مردانگی دنیا کو چھوڑنا موقع و محل پر استعمال کرنا