365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 162 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 162

درس روحانی خزائن در رس روحانی خزائن نمبر 95 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:۔162 ایک معجزہ: یہ ایک معجزہ ہے اور بڑی خوبی کا معجزہ ہے بشر طیکہ انصاف سے اس پر نظر کی جاوے کہ آج سے 23 یا 24 برس پیشتر کی کتاب براہین احمدیہ تصنیف شدہ ہے اور اس کی جلد میں اس وقت کی ہر ایک مذہب اور ملت کے پاس موجود ہیں یورپ بھی بھیجی گئی، امریکہ میں بھی بھیجی گئی، لنڈن میں اس کی کاپی موجود ہے اس میں بڑی وضاحت سے یہ لکھا ہو ا موجود ہے کہ ایک زمانہ آنے والا ہے کہ لوگ فوج در فوج تمہارے ساتھ ہوں گے حالانکہ جب یہ کلمات لکھے اور شائع کئے گئے تھے اس وقت فرد واحد بھی میرے ساتھ نہ تھا۔اس وقت خدا تعالیٰ نے ایک دعا سکھلائی جو کہ بطور گواہ اس میں لکھی ہوئی ہے رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَ اَنْتَ خَيْرُ الورثينَ (الانبياء :90) خدا تعالیٰ کا اس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ تو اکیلا ہے اور پھر تاکید کی کہ تو مخلوق کی ملاقات سے تھکنا مت اور چین بجبیں نہ ہو نا تو اب غور کرنے کی جاہے کہ کیا یہ کسی انسان کا اقرار ہو سکتا ہے اور پھر ایک زبان میں نہیں بلکہ چار زبانوں میں یہ الہام فوج در فوج لوگوں کے ساتھ ہونے کا ہے یعنی انگریزی، اردو، فارسی، عربی میں۔بڑے بڑے گواہ اگر چہ ہمارے مخالف ہیں، موجود ہیں۔محمد حسین بھی زندہ ہے یہاں کے لوگ بھی جانتے ہیں کیا وہ بتلا سکتے ہیں کہ اس وقت کون کون ہمارے ساتھ بلکہ وہ ایک گم زمانہ تھا کوئی مجھے نہ جانتا تھا اب دیکھو کہ وہ بات کیسی پوری ہوئی ہے حالانکہ ہر فرقہ اور ملت کے لوگوں نے ناخنوں تک مخالفت میں زور لگایا اور ہماری ترقی اور کامیابی کو روکنا چاہا لیکن ان کی کوئی پیش نہ گئی اور اس مخالفت کا ذکر بھی اسی کتاب براہین میں موجود ہے اب بتلاویں کہ کیا یہ معجزہ ہے کہ نہیں ؟ ہم ان سے نظیر طلب کرتے ہیں کہ آدم سے لے کر اس وقت تک وہ کسی ایسے مفتری کی خبر دیویں کہ اس نے افتراء علی اللہ کیا ہو اور اس پر مصر رہ کر 24 یا 25 سال کا زمانہ پایا ہو۔یہ ایک بڑا نشان اور معجزہ ہے اسے عقلمندوں اور اہل الرائے کو دکھلاؤ اور ان کے سامنے پیش کرو کہ وہ اس کی نظیر پیش کریں کہ اس طرح کی پیشگوئی ہو اور باوجود اس قدر مخالفت کے پھر پوری ہو جاوے ایک ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 491 مطبوعہ ربوہ) طالب حق کے لیے یہ معجزہ کافی ہے۔،، مشکل الفاظ اور ان کے معانی چین بجبیں اکتانا، غصے میں آنا اہل الرائے عظمند