365 دن (حصہ سوم) — Page 136
136 درس حدیث نمبر 115 حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے اَنَّ رَسُولَ الله يا الله مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَةَ فِيْهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَاهُذَا؟ قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَارَسُوْلَ اللهِ قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشّ فَلَيْسَ مِنَّا (ترمذی کتاب البيوع باب ماجاء في كراهية الغش في البيوع1315) آج کی دنیا میں بعض قوموں کی کمزوری اور پستی کی بنیادی وجہ تجارتی بددیانتی ہے حالانکہ بظاہر نظر وہ اللہ کی طرف سے اترنے والی اعلیٰ درجہ کی تعلیم پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ادبار اور پسماندگی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اس کے مقابل میں وہ لوگ ہیں جو جھوٹے مذاہب کو مانتے ہیں عقل کے خلاف عقائد رکھتے ہیں مگر تجارتی طور پر دیانت داری کی وجہ سے وہ مال و دولت کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور خوشحال ہیں۔ہمارے نبی صلی ال یکم ایک دفعہ ایک غلہ کے ڈھیر کے پاس سے گزرے جو بازار میں فروخت کے لئے رکھا گیا تھا آپ صلی علیم نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کیا اور وہ غلہ چونکہ اندر سے گیلا تھا اس لئے اس کی تری آپ کی انگلیوں کو محسوس ہوئی آپ نے فرمایا اے غلہ والے یہ کیا؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ اس کو بارش کا پانی لگ گیا تھا۔آپ صلی یہ کلم نے فرمایا تم نے اس کو اوپر کی طرف کیوں نہیں رکھا کہ لوگ دیکھ سکتے۔“ فرمایا مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّاوہ شخص ہمارے میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھو کہ دیتا ہے۔ہمارے نبی صلی علیم کے اس ارشاد میں ہمارے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں بھی ہمیں سبقت حاصل ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضاء ہمیں حاصل ہو تو ہمیں اس تعلیم پر عمل کرنا ہو گا جو ہمارے نبی صلی ا یکم نے ہماری دنیاو آخرت کی بھلائی کے لئے ہمیں عطا فرمائی ہے۔