365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 121 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 121

121 درس حدیث نمبر 102 حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں: كُنَّا نَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَنَشْتَرِي مِنْهُمُ الطَّعَامَ فَنَهَانَا النَّبِي الله أَن نَّبِيْعَهُ حَتَّى يُبْلَغَ بِهِ سُوْقَ الطَّعَامِ بخاری کتاب البیوع باب منتهى التلقى 2166) صنعت و تجارت کو گہری نظر سے دیکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ آج کی صنعت و تجارت کے نظام میں جو چیز عوام الناس تک پہنچتی ہے اس کی قیمت جو عوام سے وصول کی جاتی ہے اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس چیز کی بنوائی اور تبادلہ پر خرچ ہوتی ہے اور اس کی ایک بہت بڑی وجہ وہ درمیانی واسطے ہیں جو بنانے والے یا اگانے والے شخص سے لے کر عام گاہک کے درمیان ہوتے ہیں۔بے شک ایک چیز کے بنانے والے یا اگانے والے اور اس کو شہر و دیہات کے عام گاہک کے درمیان کچھ واسطوں کی حقیقی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ایک کسان اگر گندم اگا تا ہے تو شہر کے گاہک تک اس گندم کی ٹرانسپورٹ کچھ واسطے مانگتی ہے مگر صنعت و تجارت کی دنیا میں آج کل بھی اور قدیم زمانہ میں بھی بعض ایسے درمیانی واسطے آجاتے تھے اور آجاتے ہیں جن کی صنعت اور تجارت میں کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہوتی جن کو انگریزی میں Middle Man کہتے ہیں۔بعض دفعہ بڑے سرمایہ دار کسی چیز کو بنانے کے لئے ایک کمپنی بناتے ہیں اور اپنا سرمایہ 51 فیصدی رکھ کر اور دوسرے لوگوں سے 49 فیصدی سرمایہ لے کر پھر ایک اور کمپنی اپنے 51 فیصدی سرمایہ کی بناء پر اپنے ووٹوں سے تشکیل دیتے ہیں جس کی کوئی حقیقی تجارتی یا صنعتی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ کمپنی بڑے سرمایہ داروں کے اپنے آدمیوں پر مشتمل ہوتی ہے اس طرح صنعت و تجارت کی دنیا میں کسی حقیقی Function کے بغیر Middle Man آجاتے ہیں جو صرف دولت حاصل کرتے ہیں اور آخری گاہک کے لئے چیز کی قیمت بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔الله حضور علی ای ایم نے متعدد اقدامات ایسے فرمائے ہیں جن کے ذریعہ اس درمیانی بے ضرورت Middle Man کو ختم کیا جاسکے جس کی ایک مذکور بالا حدیث میں ہے۔حضرت