365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 114 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 114

114 درس حدیث نمبر 97 حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلُوةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْمَعْرُوفُ ( بخاری کتاب الزكوة باب الصدقة تكفر الخطيئة1435) ایک عام انسان کو اپنی زندگی میں دن بھر بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انسان کمزور ہے اور اس سے بہت سی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔جان بوجھ کر بھی ایک انسان گناہ کر لیتا ہے اور بے جانے بوجھے ، بغیر خاص ارادہ کرنے کے اس سے خطائیں ہوتی رہتی ہیں۔اس کا علاج بعض مذاہب میں یہ بتایا گیا ہے کہ اپنے مذہب کے نبی کی تکلیف اور دکھ کا تصور کرو، اس بات پر ایمان لاؤ کہ ان کی موت ہمارے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بن گئی اور ہماری غلطیوں کا کفارہ ہو گئی۔مذکورہ بالا ایسا تصور ہے جس کا حکمت سے کوئی تعلق نہیں، انصاف اور عدل کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مجرم کی سزا مجرم کو ہی ملنی چاہیئے کسی دوسرے کو جو معصوم ہے سزادے کر گناہ کرنے والے مجرم کے بچنے کا سامان کرنا بالکل غیر فطرتی تصور ہے۔گناہ ایک بیماری ہے اور بیماری کا علاج ضروری ہے نہ کہ طبیب کا دکھ اٹھا نا مریض کی صحت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ہمارے رسول صلی الی یکم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ انسان سے اپنے گھر والوں کے ساتھ رویہ میں بھی غلطی ہو سکتی ہے، اپنی اولاد سے سلوک میں بھی غلطی ہو سکتی ہے، اپنے ہمسایہ سے معاملہ کرنے میں بھی غلطی ہو سکتی ہے اور ان گناہوں کا تدارک ان نیک کاموں کے ذریعہ ہو سکتا ہے جو خود گناہگار کرے نہ کوئی اور۔کیونکہ گناہگار جب نیکی کرتا ہے تو وہ آئندہ کے لئے اس گناہ کا دروازہ بند کر رہا ہوتا ہے۔حضور صلی اللہ کریم نے بڑی حکمت کے ساتھ فرمایا کہ نماز اور صدقہ اور ہر قسم کی نیکی کے کام جن کو عقل اور خدا کا کلام نیکی قرار دیتا ہے بدیوں کا مٹانے یا بدیوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔