365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 109 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 109

109 درس حدیث نمبر 92 حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ امام نے فرمایا: سَوَّوْا صُفُوفَكُمْ فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلوة (مسلم کتاب الصلوۃ باب تسوية الصفوف واقامتها۔۔۔۔۔۔975) تمام اجتماعی کام خواہ دین کے ہوں یا دنیا کے ایک ترتیب اور نظم و نسق کے محتاج ہیں۔ایسے کام جس میں ایک شخص کام نہ کر رہا ہو بلکہ زیادہ کام کر رہے ہوں ان کے بگاڑ کا آسان ذریعہ یہ ہے کہ ان کے کام میں بے ترتیبی پیدا کر دی جائے یا وہ خود اپنے کام میں بے ترتیبی پیدا کر لیں۔ہمارے نبی صلی اللی کلم نے نماز با جماعت کے متعلق جو ارشادات فرمائے ہیں ان کو غور سے دیکھا جائے تو اس میں معاشرہ کے اجتماعی کاموں کو صحیح طریق سے کرنے کے بارہ میں تمام ہدایات مل جائیں گی۔مثلاً اگر اجتماعی کاموں میں کوئی ایک راہنما نہ ہو ، ایک امام نہ ہو جس کی ہدایت کے متعلق عمل کیا جائے تو وہ کام اختلاف رائے کا شکار ہو جائے گا۔نماز باجماعت وقت کی پابندی سکھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اگر اجتماعی کاموں میں وقت کی پابندی نہ ہو اور تمام کارکن اپنے وقت مقررہ پر نہ آئیں تو سارا کام کھٹائی میں پڑ جائے گا۔باجماعت نماز کے بارہ میں ایک ارشاد ہمارے نبی صلی علیم نے دیا ہے کہ امام سب سے زیادہ قرآن کا علم رکھنے والا ہو۔اس طرح اجتماعی کاموں میں اگر کسی جاہل کو راہنما بنادیا جائے تو وہ کام کبھی صحیح طور پر نہیں چلے گا۔نماز باجماعت کے بارہ میں ہمارے نبی صلی اللہ کریم نے ایک ارشاد یہ دیا ہے کہ امام مقتدیوں پر ناواجب بوجھ نہ ڈالے اور اجتماعی کاموں میں اگر حکومت یا لیڈر عوام پر ناواجب بوجھ ڈالتا ہے تو خطرہ ہے کہ کوئی بغاوت کی صورت نہ پید اہو جائے۔اس طرح بہت سے سبق باجماعت نماز کے بارہ میں ارشادات میں دیئے گئے ہیں۔آج جو حدیث پڑھی گئی ہے اس میں نظم و نسق اور ترتیب و تنظیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے آپ نے فرمایا که نماز با جماعت میں اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ صفیں سیدھی بنتا نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔