365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 101 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 101

101 درس حدیث نمبر 85 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں: أَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْأَنْصَارِ اسْتَأْذَنُوا رَسُوْلَ الله الله فَقَالُوا : يَارَسُوْلَ اللهِ الْذَنْ فَلْنَتْرُك لابْنِ أُخْتِنَا عَبَّاسٍ فِدَاءَهُ فَقَالَ: لَا تَدَعُونَ مِنْهَا دِرْهَمَّا ( بخاری کتاب الجہاد والسیر باب فداء المشركين3048) کہا جاتا ہے کہ جہاں عدل و انصاف ایک ضروری اور بنیادی چیز ہے وہاں معاشرہ کی اصلاح و بہتری کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عدل و انصاف ہو تا ہوا بھی نظر آئے۔اگر انصاف ہو رہا ہو مگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس نہ ہو کہ معاشرہ میں انصاف ہو رہا ہے تو اس کا وہ فائدہ نہ ہو گا جو ہونا چاہیے۔آج کی حدیث میں جو واقعہ بیان ہے وہ نہ صرف انصاف کی زبر دست مثال ہے بلکہ اس بات کا بھی ایک نمونہ ہے کہ لوگوں کو انصاف ہوتا نظر آئے۔بدر کی جنگ کے موقع پر قریش مکہ ایک لشکر جرار لے کر حضور صلی الم پر حملہ کرنے کے لئے آئے۔جس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا لشکر تعداد کے لحاظ سے بھی اور ہتھیار اور ساز و سامان کے لحاظ سے بھی دشمن کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی غیر معمولی فتح دی جس کی جنگوں کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔اس جنگ میں قریش مکہ کے لشکر میں حضرت عباس بھی شامل تھے جو نہ صرف حضور صلی ال نیلم کے سگے چچا تھے بلکہ دونوں میں ایک دوسرے سے پیار کا گہرا تعلق تھا۔جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو قریش مکہ کے مقابلہ میں غیر معمولی فتح دی تو مسلمانوں نے دشمن کے لشکر میں سے 70 سپاہیوں کو قیدی بنالیا۔ان قیدیوں کے متعلق یہ فیصلہ ہوا کہ ان کو کچھ فدیہ لے کہ چھوڑ دیا جائے خواہ یہ فدیہ رقم کی صورت میں ہو یا جو قیدی تعلیم یافتہ ہیں وہ مدینہ کے دس دس (10-10) بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔حضرت عباس کے متعلق قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ دل سے نہ صرف مسلمان ہو چکے تھے بلکہ اسلام کی خاطر ہی بظاہر نظر کافر کے طور پر مکہ میں مقیم تھے۔جب وہ قید ہوئے تو انصار مدینہ کے کچھ لوگوں نے حضور صلی اللی علم کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور اجازت فرمائیں تو