365 دن (حصہ سوم) — Page 62
درس القرآن 62 درس القرآن نمبر 206 لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمُ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( البقرة : 285) یہ آیت اور اس سے اگلی دو آیات سورۃ البقرۃ کی آخری آیات ہیں اور یہ تینوں آیات نہ صرف سورۃ البقرۃ کے اس حصہ کا تمہ ہیں جو کہ تزکیہ کے اصول بیان کرتا ہے بلکہ ایک رنگ میں تمام سورۃ البقرۃ کا تتمہ ہے۔وہ سورۃ جو قرآن مجید کے تمام خلاصہ کے بعد جو سورۃ الفاتحہ کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔قرآن شریف کے بنیادی عقائد، احکامات، اخلاقی نصائح اور دیگر مذاہب سے اس کی برتری کے مضامین پر مشتمل ہے اور اس آیت میں پہلی زبر دست صداقت، بنیادی سچائی کو دہرایا گیا ہے۔لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کہ آسمانوں کی وسعتوں کا گوشہ گوشہ ہو یاز مین کا ذرہ ذرہ سب کچھ اللہ کا ہی ہے، اسی نے بنایا ہے ، اسی کے کنٹرول میں ہے، جب یہ حال ہے تو دان تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُم بِهِ الله تو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو، خواہ تم اسے چھپائے رکھو، خدا کے محاسبہ کا نظام اس پر قائم ہے وہ تم سے اس کا حساب لے گا فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ پھر اس کی مشیت کام کرے گی۔وہ جسے مناسب سمجھے گا بخش دے گا کیونکہ اس کی نظر اس شخص کے دل پر بھی ہے اور اس کے اعمال پر بھی وَيُعَذِّبُ مَنْ یشاء اور جس کے لئے مناسب سمجھے گا اس کی سزا اور تنبیہ کے ذریعہ اصلاح فرمائے گا کیونکہ یہ سارا نظم و ضبط اس کے ہاتھ میں ہے وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر اور اللہ ہر ایک چیز پر قدرت رکھتا ہے۔یہ بنیادی ترین حقیقت ہے جو سورۃ البقرۃ کے آخر میں بیان کی گئی۔ہے۔