365 دن (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 61 of 200

365 دن (حصہ سوم) — Page 61

درس القرآن 61 درس القرآن نمبر 205 وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهنَّ مَقْبُوضَةٌ فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّةَ أَثِم قَلْبُهُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (البقرة: 284) جیسا کہ گزشتہ درس میں ذکر ہوا تھا انفرادی اور اجتماعی تزکیہ کے لئے معاشرہ کو مالی جھگڑوں سے بچانا ضروری ہے اور مالی جھگڑوں سے بچنے کے لئے پہلی بات قرض، تجارت و غیر مالی معاملات میں تحریری گواہی کا نظام قائم کرنا ضروری ہے اور دوسری چیز اگر سفر وغیرہ کی وجہ سے تحریری نظام نہ قائم ہو سکے تو باقبضہ رہن کو اختیار کیا جاسکتا ہے، حضرت مصلح موعودؓ تحریر فرماتے ہیں:۔فرماتا ہے اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی کاتب اور وثیقہ نویس نہ ملے تو اس کا قائمقام رہن با قبضہ ہے تمہیں چاہیئے کہ تم اپنی کوئی چیز قرض دینے والے کے پاس بطور رہن رکھوا دو تا کہ اسے اپنے روپیہ کے ضائع ہونے کا خطرہ نہ رہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام قرض کے معاملہ میں کتنی احتیاط اور دور اندیشی سے کام لینے کی ہدایت دیتا ہے۔اس کے بعد نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے فَإِنْ آمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ الله ربه اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کے متعلق مطمئن ہو اور اسے بلار ہن روپیہ دے دے تو وہ شخص جسے روپیہ دیا گیا ہے اور جسے امین جانا گیا ہے اس کا فرض ہے کہ دوسرے کے مطالبہ پر روپیہ بلا حجت واپس کر دے۔اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے پھر ایک اور نصیحت کرتا ہے۔فرماتا ہے وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةً تم آپس کے لین دین کے معاملات میں ہمیشہ سچی بات کیا کرو اور کبھی کسی گواہی کو چھپانے کی کوشش نہ کر دور نہ تمہارا دل گناہگار ہو جائے گا۔۔۔اس آیت میں صرف گواہوں کی تخصیص نہیں کی گئی بلکہ وہ تمام افراد جو کسی معاملہ میں شریک ہوں ان سب کو توجہ دلائی گئی ہے کہ تم میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو جھوٹ بولنا یا جھوٹی گواہی دینا تو الگ رہا سچی گواہی کو بھی چھپانے کی کوشش کرے۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 648،649 مطبوعہ ربوہ)