365 دن (حصہ سوم) — Page 51
درس القرآن 51 درس القرآن نمبر 197 انْصَارِ وَمَا انْفَقْتُم مِّنْ نَفَقَةِ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرِ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ (البقرة:271) تزکیہ انفرادی ہو یا قومی اور جماعتی ہو اور قومی یا جماعتی تزکیہ خواہ پاکیزگی سے تعلق رکھتا ہو یا عد دی نشو و نما سے تعلق رکھتا ہو میں مالی قربانی کا مقام بہت بلند ہے اور اس مضمون کے جملہ پہلوؤں کو سورۃ البقرۃ کے اس حصہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے وَمَا انْفَقْتُم مِّنْ نَفَقَةٍ میں بتایا گیا ہے کہ جو خرچ بھی کسی قسم کا ہو تم کر چکے ہو اور أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرِ یا آئندہ کے لئے تم نذر مانتے ہو منت مانتے ہو فَإِنَّ اللهَ يَعْلَمُہ ہر قسم کے خرچ کو اللہ جانتا ہے وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ اَنْصَارِ مگر ظلم کرنے والے ( ظلم کرنے کے معنی ہیں چیز کو مناسب جگہ پر نہ رکھنا) تو فرماتا ہے ظلم کرنے والے یعنی اخراجات کے معاملہ میں کمی بیشی کرنے والوں کے لئے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی مددگار نہیں۔مالی قربانیوں میں سے صدقات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ قومی اور اجتماعی طور پر بھی دیئے جاسکتے ہیں اور انفرادی طور پر محتاج لوگوں کو دیئے جاسکتے ہیں اس بارہ میں فرماتا ہے اِن تُبْدُوا الصَّداقتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ اگر تم صدقات ظاہر ادو تو یہ بھی عمدہ بات ہے لیکن تم ان کو مخفی رکھو اور براہ راست ضرورت مندوں کو دو تو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَأْتِكُم اور یہ تمہاری برائیوں کا تدارک کر دے گا وَ اللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ اور اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔(البقرة:272)